لبوں پہ حرف رجز ہے زرہ اتار کے بھی
میں جشن فتح مناتا ہوں جنگ ہار کے بھی
اسے لبھا نہ سکا میرے بعد کا موسم
بہت اداس لگا خال و خد سنوار کے بھی
اب ایک پل کا تغافل بھی سہہ نہیں سکتے
ہم اہل دل کبھی عادی تھے انتظار کے بھی
وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی
زمین اوڑھ لی ہم نے پہنچ کے منزل پر
کہ ہم پہ قرض تھے کچھ گرد رہ گزار کے بھی
مجھے نہ سن مرے بے شکل اب دکھائی تو دے
میں تھک گیا ہوں فضا میں تجھے پکار کے بھی
مری دعا کو پلٹنا تھا پھر ادھر محسنؔ
بہت اجاڑ تھے منظر افق سے پار کے بھی
محسن نقوی کی مزید شاعری
غزل
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
میں چپ رہا کہ زہر یہی مجھ کو راس تھا
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
نظم
وہ سنگ لفظ پھینک کے کتنا اداس تھا
اکثر مری قبا پہ ہنسی آ گئی جسے
وہ تو یوں تھا کہ ہم
وہ تو یوں تھا کہ ہم
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
غزل
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
شعر
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
شعر
اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا
وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے
شعر
کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں
بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں