معرکہ اب کے ہوا بھی تو پھر ایسا ہوگا
تیرے دریا پہ مری پیاس کا پہرہ ہوگا
اس کی آنکھیں ترے چہرے پہ بہت بولتی ہیں
اس نے پلکوں سے ترا جسم تراشا ہوگا
کتنے جگنو اسی خواہش میں مرے ساتھ چلے
کوئی رستہ ترے گھر کو بھی تو جاتا ہوگا
میں بھی اپنے کو بھلائے ہوئے پھرتا ہوں بہت
آئنہ اس نے بھی کچھ روز نہ دیکھا ہوگا
رات جل تھل مری آنکھوں میں اتر آیا تھا
صورت ابر کوئی ٹوٹ کے برسا ہوگا
یہ مسیحائی اسے بھول گئی ہے محسنؔ
یا پھر ایسا ہے مرا زخم ہی گہرا ہوگا
محسن نقوی کی مزید شاعری
نظم
وہ تو یوں تھا کہ ہم
وہ تو یوں تھا کہ ہم
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
شعر
اپنی اپنی ضرورت کی خاطر
اپنے اپنے تقاضوں کو پورا کیا
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
جو اپنی ذات سے باہر نہ آ سکا اب تک
وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا
غزل
وہ پتھروں کو متاع حواس کیا دے گا
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
نظم
مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا
یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو
مرے لیے کون سوچتا ہے
مرے لیے کون سوچتا ہے
جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
شعر
جدا جدا ہیں مرے قبیلے کے لوگ سارے
جدا جدا سب کی صورتیں ہیں
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
شعر
یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر