Friday, September 18, 2026
FB
غزل

سناتے رہیے حکایات جاگتے رہیے

سناتے رہیے حکایات جاگتے رہیے
بہت مہیب سہی رات جاگتے رہیے
اگر خراب ہیں حالات جاگتے رہیے
کہ یہ ہے وقت کرامات جاگتے رہیے
یہ فیصلے کی گھڑی ہے ٹھہر بھی جائیے آپ
اسی طرح سے مرے سات جاگتے رہیے
درست کیجئے قبلہ درست کیجئے کام
درست رکھئے حسابات جاگتے رہیے
وہ صبح جس کے لئے رات بھر نہ سوئے تھے
ہوئی تو دیکھا کہ تھی رات جاگتے رہیے
تلاش صبح میں اپنا نشاں مٹا ڈالا
اور اب بھٹکتے ہیں دن رات جاگتے رہیے
بہت عزیز تھی غفلت جو ہوش آ ہی گیا
یہی ہے اس کی مکافات جاگتے رہیے
ہزار غلبۂ شب ہو تھکن ہو نیند آئے
ابھی بہت ہیں مہمات جاگتے رہیے
ہر اک سوال پہ چلئے یہ خامشی ہی سہی
بہت ہیں میرے سوالات جاگتے رہیے
وہ چرخ ذات سے اتریں تو آسمان بنیں
کھلے ہیں سارے سماوات جاگتے رہیے
ادھوری باتیں نہ الجھیں گی پھر نگاہوں سے
مدام رکھئے عنایات جاگتے رہیے
نگاہ لوٹی تو خوابیدہ ذہن جاگ اٹھا
ہوئے ہیں پیدا کنایات جاگتے رہیے
وہ خاص بات جو منسوب آپ سے ہے حضور
اسی سے نکلے نئی بات جاگتے رہیے
1 ویوز 17 Sep 2026 غزل