Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے

یہ ہے مے کدہ یہاں رند ہیں یہاں سب کا ساقی امام ہے
یہ حرم نہیں ہے اے شیخ جی یہاں پارسائی حرام ہے
جو ذرا سی پی کے بہک گیا اسے میکدے سے نکال دو
یہاں تنگ نظر کا گزر نہیں یہاں اہل ظرف کا کام ہے
کوئی مست ہے کوئی تشنہ لب تو کسی کے ہاتھ میں جام ہے
مگر اس پہ کوئی کرے بھی کیا یے تو میکدے کا نظام ہے
یہ جناب شیخ کا فلسفہ ہے عجیب سارے جہان سے
جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے
تجھے اپنے حسن کا واسطہ میرے شوق دید پہ رحم کھا
ذرا مسکرا کے نقاب اٹھا کہ نظر کو شوق سلام ہے
نہ سنا تو حور و قصور کی یہ حکایتیں مجھے واعظا
کوئی بات کر در یار کی در یار ہی سے تو کام ہے
نہ تو اعتکاف سے کچھ غرض نہ ثواب و زہد سے واسطہ
تری دید ایسی نماز ہے نہ سجود ہے نہ قیام ہے
یہ درست کہ عیب ہے مے کشی یہ بجا کہ بادہ حرام ہے
مگر اب سوال یہ آ پڑا کہ تمھارے ہاتھ میں جام ہے
جو اٹھی تو صبح دوام تھی جو جھکی تو شام ہی شام تھی
تری چشم مست میں ساقیا مری زندگی کا نظام ہے
مرا فرض ہے کہ پڑا رہوں تری بارگاہ میں ساقیا
کوئی تشنہ لب ہے کہ سیر ہے یہی دیکھنا ترا کام ہے
اسی کائنات میں اے جگرؔ کوئی انقلاب اٹھے گا پھر
کہ بلند ہو کے بھی آدمی ابھی خواہشوں کا غلام ہے
19 ویوز 17 Sep 2026 غزل