Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

مصطفیٰ زیدی
33 Views Sep 17, 2026 0 min read
چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ دریچوں کو تو دیکھو چلمنوں کے راز تو سمجھو اٹھیں گے پردہ ہائے بام و در آہستہ آہستہ زمانے بھر کی کیفیت سمٹ آئے گی ساغر میں پیو ان انکھڑیوں کے نام پر آہستہ آہستہ یوں ہی اک روز اپنے دل کا قصہ بھی سنا دینا خطاب آہست
Copied!