Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا

محسن نقوی
25 Views Sep 12, 2026 0 min read
فن کار ہے تو ہاتھ پہ سورج سجا کے لا بجھتا ہوا دیا نہ مقابل ہوا کے لا دریا کا انتقام ڈبو دے نہ گھر ترا ساحل سے روز روز نہ کنکر اٹھا کے لا اب اختتام کو ہے سخی حرف التماس کچھ ہے تو اب وہ سامنے دست دعا کے لا پیماں وفا کے باندھ مگر سوچ سوچ کر اس ابتدا میں یوں نہ سخن انتہا کے لا آرائش جراحت یاراں کی بزم ہے جو زخم دل میں ہیں سبھی تن پر سجا کے لا تھوڑی سی اور موج میں آ اے ہوائے گل تھوڑی سی اس کے جسم کی خوشبو چرا کے لا گر سوچنا ہیں اہل مشیت کے حوصلے میداں سے گھر میں ایک تو میت اٹھا کے لا محسنؔ اب اس کا نام ہے سب کی زبان پر کس نے کہا کہ اس کو غزل میں سجا کے لا
Copied!