Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں

محسن نقوی
32 Views Sep 12, 2026 0 min read
ہر ایک شب یوں ہی دیکھیں گی سوئے در آنکھیں تجھے گنوا کے نہ سوئیں گی عمر بھر آنکھیں طلوع صبح سے پہلے ہی بجھ نہ جائیں کہیں یہ دشت شب میں ستاروں کی ہم سفر آنکھیں ستم یہ کم تو نہیں دل گرفتگی کے لئے میں شہر بھر میں اکیلا ادھر ادھر آنکھیں شمار اس کی سخاوت کا کیا کریں کہ وہ شخص چراغ بانٹتا پھرتا ہے چھین کر آنکھیں میں زخم زخم ہوا جب تو مجھ پہ بھید کھلا کہ پتھروں کو سمجھتی رہیں گہر آنکھیں میں اپنے اشک سنبھالوں گا کب تلک محسنؔ زمانہ سنگ بکف ہے تو شیشہ گر آنکھیں
Copied!