Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے

محسن نقوی
26 Views Sep 12, 2026 0 min read
ہوا کا لمس جو اپنے کواڑ کھولتا ہے تو دیر تک مرے گھر کا سکوت بولتا ہے ہم ایسے خاک نشیں کیا لبھا سکیں گے اسے وہ اپنا عکس بھی میزان زر میں تولتا ہے جو ہو سکے تو یہی رات اوڑھ لے تن پر بجھا چراغ اندھیرے میں کیوں ٹٹولتا ہے اسی سے مانگ لو خیرات اپنے خوابوں کی وہ جاگتی ہوئی آنکھوں میں نیند گھولتا ہے سنا ہے زلزلے آتے ہیں عرش پر محسنؔ کہ بے گناہ لہو جب سناں پہ بولتا ہے
Copied!