Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے

افتخار عارف
23 Views Sep 17, 2026 0 min read
خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے کبھی مل جائے تو رستے کی تھکن جاگ پڑے ایسی منزل سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے وہی پیماں جو کبھی جی کو خوش آیا تھا بہت اسی پیماں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے
Copied!