Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

احمد ندیم قاسمی
24 Views Sep 17, 2026 0 min read
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا اب تو خورشید کو گزرے ہوئے صدیاں گزریں اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا
Copied!