Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر

محسن نقوی
28 Views Sep 12, 2026 0 min read
نہ سماعتوں میں تپش گھلے نہ نظر کو وقف عذاب کر جو سنائی دے اسے چپ سکھا جو دکھائی دے اسے خواب کر ابھی منتشر نہ ہو اجنبی نہ وصال رت کے کرم جتا جو تری تلاش میں گم ہوئے کبھی ان دنوں کا حساب کر مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دوپہر پہ یہ ابر کیوں مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں کبھی دل کو تھل کا مزاج دے کبھی چشم تر کو چناب کر یہ ہجوم شہر ستمگراں نہ سنے گا تیری صدا کبھی مری حسرتوں کو سخن سنا مری خواہشوں سے خطاب کر
Copied!