Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا

جوش ملیح آبادی
17 Views Sep 17, 2026 0 min read
سوز غم دے کے مجھے اس نے یہ ارشاد کیا جا تجھے کشمکش دہر سے آزاد کیا وہ کریں بھی تو کن الفاظ میں تیرا شکوہ جن کو تیری نگہ لطف نے برباد کیا دل کی چوٹوں نے کبھی چین سے رہنے نہ دیا جب چلی سرد ہوا میں نے تجھے یاد کیا اے میں سو جان سے اس طرز تکلم کے نثار پھر تو فرمائیے کیا آپ نے ارشاد کیا اس کا رونا نہیں کیوں تم نے کیا دل برباد اس کا غم ہے کہ بہت دیر میں برباد کیا اتنا مانوس ہوں فطرت سے کلی جب چٹکی جھک کے میں نے یہ کہا مجھ سے کچھ ارشاد کیا میری ہر سانس ہے اس بات کی شاہد اے موت میں نے ہر لطف کے موقع پہ تجھے یاد کیا مجھ کو تو ہوش نہیں تم کو خبر ہو شاید لوگ کہتے ہیں کہ تم نے مجھے برباد کیا کچھ نہیں اس کے سوا جوشؔ حریفوں کا کلام وصل نے شاد کیا ہجر نے ناشاد کیا
Copied!