Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

سناتے رہیے حکایات جاگتے رہیے

محمد طارق عزیز سلطانی
23 Views Sep 17, 2026 0 min read
سناتے رہیے حکایات جاگتے رہیے بہت مہیب سہی رات جاگتے رہیے اگر خراب ہیں حالات جاگتے رہیے کہ یہ ہے وقت کرامات جاگتے رہیے یہ فیصلے کی گھڑی ہے ٹھہر بھی جائیے آپ اسی طرح سے مرے سات جاگتے رہیے درست کیجئے قبلہ درست کیجئے کام درست رکھئے حسابات جاگتے رہیے وہ صبح جس کے لئے رات بھر نہ سوئے تھے ہوئی تو دیکھا کہ تھی رات جاگتے رہیے تلاش صبح میں اپنا نشاں مٹا ڈالا اور اب بھٹکتے ہیں دن رات جاگتے رہیے بہت عزیز تھی غفلت جو ہوش آ ہی گیا یہی ہے اس کی مکافات جاگتے رہیے ہزار غلبۂ شب ہو تھکن ہو نیند آئے ابھی بہت ہیں مہمات جاگتے رہیے ہر اک سوال پہ چلئے یہ خامشی ہی سہی بہت ہیں میرے سوالات جاگتے رہیے وہ چرخ ذات سے اتریں تو آسمان بنیں کھلے ہیں سارے سماوات جاگتے رہیے ادھوری باتیں نہ الجھیں گی پھر نگاہوں سے مدام رکھئے عنایات جاگتے رہیے نگاہ لوٹی تو خوابیدہ ذہن جاگ اٹھا ہوئے ہیں پیدا کنایات جاگتے رہیے وہ خاص بات جو منسوب آپ سے ہے حضور اسی سے نکلے نئی بات جاگتے رہیے
Copied!