Tuesday, October 27, 2026
FB
غزل

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

محسن نقوی
26 Views Sep 12, 2026 0 min read
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
Copied!