Wednesday, October 28, 2026
FB
غزل

یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے

خواجہ حیدر علی آتش
26 Views Sep 17, 2026 0 min read
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رو بہ رو کرتے ہم اور بلبل بیتاب گفتگو کرتے پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے مری طرح سے مہ و مہر بھی ہیں آوارہ کسی حبیب کی یہ بھی ہیں جستجو کرتے ہمیشہ رنگ زمانہ بدلتا رہتا ہے سفید رنگ ہیں آخر سیاہ مو کرتے لٹاتے دولت دنیا کو میکدے میں ہم طلائی ساغر مے نقرئی سبو کرتے ہمیشہ میں نے گریباں کو چاک چاک کیا تمام عمر رفوگر رہے رفو کرتے جو دیکھتے تری زنجیر زلف کا عالم اسیر ہونے کی آزاد آرزو کرتے بیاض گردن جاناں کو صبح کہتے جو ہم ستارۂ سحری تکمۂ گلو کرتے یہ کعبے سے نہیں بے وجہ نسبت رخ یار یہ بے سبب نہیں مردے کو قبلہ رو کرتے سکھاتے نالۂ شبگیر کو در اندازی غم فراق کا اس چرخ کو عدو کرتے وہ جان جاں نہیں آتا تو موت ہی آتی دل و جگر کو کہاں تک بھلا لہو کرتے نہ پوچھ عالم برگشتہ طالعی آتشؔ برستی آگ جو باراں کی آرزو کرتے
Copied!