حبیب جالب
Habib Jalib
پیدائش: 24 Mar 1928
وفات: 12 Mar 1993
حبیب جالب پاکستان کے معروف انقلابی اور عوامی شاعر تھے۔ ان کی شاعری میں جمہوریت، آزادی، مساوات، انسانی حقوق اور عام لوگوں کے مسائل نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ وہ اپنی سادہ، براہِ راست اور پُرجوش شاعری کے ذریعے آمریت، سیاسی جبر اور معاشرتی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ ان کی شاعری نے عام لوگوں میں خاص مقبولیت حاصل کی اور انہیں شاعرِ عوام کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی مشہور نظموں میں دستور اور مشیر شامل ہیں۔ حبیب جالب نے اپنی زندگی میں کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن اپنے نظریات اور اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
1
کل شاعری
1
غزل
غزل
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا
مکمل پڑھیں
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا
کوئی ٹھہرا ہو جو لوگوں کے مقابل تو بتاؤ
وہ کہاں ہیں کہ جنہیں ناز بہت اپنے تئیں تھا