Thursday, September 17, 2026
خواجہ میر درد

خواجہ میر درد

Khwaja Mir Dard
پیدائش: 13 Sep 1721 وفات: 11 Jan 1785
خواجہ میر درد اٹھارہویں صدی کے ممتاز اردو صوفی شاعر، ادیب اور صوفی مفکر تھے۔ ان کا تعلق دہلی کے علمی و صوفیانہ ماحول سے تھا اور وہ نقشبندی مجددی سلسلے سے وابستہ تھے۔ ان کی شاعری میں تصوف، عشقِ حقیقی، انسانی باطن، روحانی تجربات، درد اور معرفت کے موضوعات نمایاں ہیں۔ اردو کی صوفیانہ شاعری میں انہیں ایک بلند مقام حاصل ہے۔ ان کا دیوانِ درد اردو غزل کی اہم کلاسیکی تصانیف میں شمار ہوتا ہے، جبکہ انہوں نے فارسی میں بھی شاعری کی اور تصوف و روحانیت سے متعلق نثری تصانیف تحریر کیں۔ خواجہ میر درد موسیقی کے بھی ماہر تھے اور اپنے دور کے علمی، ادبی اور صوفیانہ حلقوں میں خاص احترام رکھتے تھے۔ ان کی شاعری نے اردو ادب میں صوفیانہ فکر اور داخلی جذبات کے اظہار کو ایک منفرد اسلوب عطا کیا۔
1 کل شاعری
1 غزل
غزل

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا

جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
جان سے ہو گئے بدن خالی
جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
مکمل پڑھیں
0 17 Sep 2026