Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں بڑا دھچکا، 133 رنز پر آل آؤٹ

انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ ایک بار پھر ناکام ہوگئی اور پوری ٹیم 133 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ انگلینڈ نے پہلے دن 156 رنز بنا کر 23 رنز کی برتری حاصل کرلی۔

پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں بڑا دھچکا، 133 رنز پر آل آؤٹ

پاکستان کرکٹ ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں بڑا دھچکا، 133 رنز پر پوری ٹیم آؤٹ

برمنگھم: انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے تیسرے اور آخری میچ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ایک مرتبہ پھر بیٹنگ کے شعبے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایجبسٹن میں کھیلے جا رہے میچ کے پہلے روز پاکستانی بیٹنگ لائن انگلینڈ کے تیز گیند بازوں کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکی اور پوری ٹیم صرف 133 رنز پر پویلین لوٹ گئی۔

انگلینڈ نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، لیکن میزبان ٹیم کے فاسٹ بولرز نے ابتدائی اوورز ہی میں پاکستانی بیٹنگ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ پاکستان نے صرف 10 اوورز کے اندر 26 رنز پر چار اہم وکٹیں گنوا دیں، جس کے بعد ٹیم سنبھلنے میں ناکام رہی۔

پاکستان کی جانب سے سعود شکیل نے سب سے زیادہ 43 رنز بنائے جبکہ محمد عباس نے 21 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ صرف ڈیبیو کرنے والے رزا اللہ 11 رنز بنا کر ڈبل فیگر میں داخل ہوسکے۔ پاکستان کی پوری ٹیم 33.5 اوورز میں 133 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔

انگلینڈ کے فاسٹ بولرز کا زبردست حملہ

پاکستان کی بیٹنگ کو تباہ کرنے میں انگلینڈ کے فاسٹ بولنگ اٹیک نے مرکزی کردار ادا کیا۔ جوش ٹنگ نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 42 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔

اولی رابنسن نے 15 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جوفرا آرچر نے 25 رنز کے عوض 3 پاکستانی کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔

انگلینڈ کے تینوں فاسٹ بولرز نے پاکستانی بیٹنگ کی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور سوئنگ اور سیم موومنٹ کے ذریعے بلے بازوں کو مسلسل مشکلات میں رکھا۔ پاکستان کے تمام 10 وکٹیں انگلینڈ کے فاسٹ بولرز نے حاصل کیں، جو پاکستانی بیٹنگ کی مشکلات کی واضح تصویر پیش کرتی ہیں۔

پاکستانی ٹاپ آرڈر ایک مرتبہ پھر ناکام

پاکستان کے لیے سب سے زیادہ تشویش کی بات ٹاپ آرڈر کی ایک مرتبہ پھر ناکامی رہی۔ ابتدائی پانچ پاکستانی بلے بازوں میں سے کوئی بھی ڈبل فیگر تک نہ پہنچ سکا۔

اس صورتحال نے پاکستانی ٹیم کو آغاز ہی میں شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ انگلینڈ کے بولرز نے نئی گیند سے ایسی لائن اور لینتھ اختیار کی جس کے سامنے پاکستانی بلے باز دفاعی انداز اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔

پاکستان کی ٹیم پہلے ہی سیریز کے ابتدائی دو ٹیسٹ ہار چکی ہے، اس لیے تیسرے ٹیسٹ میں بیٹنگ کی اس قدر خراب کارکردگی نے ٹیم کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان اس سیریز کے دوران مسلسل 200 رنز سے کم مجموعے پر آؤٹ ہوتا رہا ہے، جس سے ٹیم کی بیٹنگ فارم پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔

بابر اعظم بھی بڑی اننگز نہ کھیل سکے

پاکستانی کپتان بابر اعظم بھی انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں خاطر خواہ کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے اور صرف 7 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

جوش ٹنگ نے بابر اعظم کو بولڈ کرکے پاکستان کو ایک اور بڑا نقصان پہنچایا۔ بابر کی وکٹ گرنے کے بعد پاکستانی اننگز مزید دباؤ میں آگئی اور انگلینڈ کے بولرز نے باقی بیٹنگ لائن کو بھی زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہرنے کا موقع نہیں دیا۔

بابر اعظم کی ناکامی پاکستان کے لیے اس لیے بھی اہم رہی کیونکہ مشکل حالات میں ٹیم کو اپنے تجربہ کار بلے باز سے بڑی اننگز کی توقع تھی۔

سعود شکیل نے کچھ مزاحمت دکھائی

پاکستانی اننگز میں سعود شکیل واحد نمایاں بلے باز رہے جنہوں نے انگلینڈ کے فاسٹ بولرز کے سامنے نسبتاً بہتر مزاحمت کی۔

سعود شکیل نے 43 رنز بنائے اور 47 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے سات چوکے بھی لگائے۔ تاہم ان کی اننگز بھی پاکستان کو بڑے مجموعے تک پہنچانے کے لیے کافی ثابت نہ ہوسکی۔

سعود کی وکٹ بھی جوش ٹنگ نے حاصل کی، جس کے بعد پاکستان کے لیے اننگز کو مزید آگے لے جانا مشکل ہوگیا۔

ڈیبیو کرنے والے رزا اللہ نے امید کی کرن دکھا دی

پاکستان کے لیے پہلے دن کی مایوس کن صورتحال میں سب سے مثبت پہلو نوجوان فاسٹ بولر رزا اللہ کی شاندار کارکردگی رہی۔

اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے رزا اللہ نے انگلینڈ کے کپتان اور تجربہ کار بلے باز جو روٹ کو اپنی چوتھی گیند پر آؤٹ کرکے بین الاقوامی ریڈ بال کرکٹ میں یادگار آغاز کیا۔

رزا اللہ نے بعد میں انگلینڈ کے اوپنر ایمیلیو گے کو بھی 60 رنز پر آؤٹ کردیا۔ دن کے اختتام پر نوجوان فاسٹ بولر نے 9 اوورز میں 42 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔

یہ کارکردگی پاکستان کے لیے اس مشکل میچ میں ایک روشن پہلو قرار دی جارہی ہے۔ آئی سی سی نے بھی رزا اللہ کی ڈیبیو پر شاندار بولنگ کو نمایاں کیا ہے۔

جو روٹ کو آؤٹ کرکے رزا اللہ نے سب کو متاثر کردیا

رزا اللہ کی سب سے نمایاں کامیابی جو روٹ کی وکٹ رہی۔ جو روٹ دنیا کے تجربہ کار ترین ٹیسٹ بلے بازوں میں شمار ہوتے ہیں اور انگلینڈ کے موجودہ کپتان بھی ہیں۔

رزا اللہ نے روٹ کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا اور یوں اپنی پہلی ہی ٹیسٹ وکٹ کے طور پر ایک بڑا شکار حاصل کیا۔

اس وکٹ نے کچھ دیر کے لیے پاکستان کو میچ میں واپسی کا موقع فراہم کیا، لیکن انگلینڈ کے مڈل آرڈر نے بعد میں پاکستانی بولرز کے خلاف اچھی مزاحمت کی۔

انگلینڈ کی اننگز بھی ابتدا میں مشکلات کا شکار ہوئی

پاکستان کی بیٹنگ کے بعد انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز شروع کی تو پاکستانی بولرز نے بھی ابتدائی طور پر اچھی کارکردگی دکھائی۔

محمد علی نے بین ڈکٹ کو 11 رنز پر آؤٹ کیا، جبکہ محمد عباس نے جارڈن کاکس کو صرف 4 رنز پر پویلین واپس بھیج دیا۔

اس کے بعد رزا اللہ نے جو روٹ کو آؤٹ کرکے انگلینڈ کو 39 رنز پر تین وکٹوں کے نقصان تک پہنچا دیا۔

اس مرحلے پر ایسا محسوس ہوا کہ پاکستان اپنی خراب بیٹنگ کے باوجود میچ میں واپسی کرسکتا ہے، لیکن ایمیلیو گے اور ہیری بروک نے شاندار شراکت قائم کرکے انگلینڈ کو دوبارہ مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔

ہیری بروک اور ایمیلیو گے کی شاندار شراکت

انگلینڈ کی اننگز کو سنبھالنے میں ایمیلیو گے اور ہیری بروک نے اہم کردار ادا کیا۔

دونوں بلے بازوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 104 رنز کی شراکت قائم کی۔ ایمیلیو گے نے 60 رنز بنائے جبکہ ہیری بروک دن کے اختتام پر 52 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔

رزا اللہ نے ایمیلیو گے کو آؤٹ کرکے اس شراکت کا خاتمہ کیا، تاہم تب تک انگلینڈ پاکستان کی پہلی اننگز کا اسکور عبور کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔

دن کے اختتام پر انگلینڈ نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا لیے تھے اور پاکستان کے خلاف پہلی اننگز میں 23 رنز کی برتری حاصل کرلی تھی۔

پاکستان کے لیے میچ میں واپسی کا راستہ مشکل

پہلے دن کے اختتام پر انگلینڈ کی 23 رنز کی برتری بظاہر بہت بڑی نہیں، لیکن پاکستان کی صرف 133 رنز کی پہلی اننگز اس میچ میں اصل تشویش کا باعث ہے۔

انگلینڈ کے پاس ابھی چھ وکٹیں موجود ہیں اور ہیری بروک کریز پر موجود ہیں۔ اگر انگلینڈ اپنی برتری کو 100 یا اس سے زیادہ رنز تک پہنچانے میں کامیاب ہوگیا تو پاکستان کے لیے میچ میں واپسی خاصی مشکل ہوسکتی ہے۔

پاکستان کو دوسرے دن کے آغاز میں جلد وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی تاکہ انگلینڈ کو بڑا اسکور بنانے سے روکا جاسکے۔

سیریز پہلے ہی پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکی

تیسرا ٹیسٹ شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستان تین میچوں کی سیریز میں 0-2 سے پیچھے تھا۔

انگلینڈ نے پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کو ایک اننگز اور 103 رنز سے شکست دی تھی، جبکہ دوسرے ٹیسٹ میں بھی میزبان ٹیم نے 194 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

دوسرے ٹیسٹ کے بعد پاکستانی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ سات کھلاڑیوں کو واپس بھیج دیا گیا اور کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔ تیسرے ٹیسٹ کے لیے پاکستان نے چار تبدیلیاں کیں، جن میں تین کھلاڑیوں کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا گیا۔

ٹیم میں تبدیلیاں بھی مسئلہ حل نہ کرسکیں

پاکستان نے تیسرے ٹیسٹ کے لیے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ تین کھلاڑیوں نے اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا جبکہ مجموعی طور پر چار تبدیلیاں کی گئیں۔

امید تھی کہ نئے کھلاڑی ٹیم میں تازگی لائیں گے اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کا آخری ٹیسٹ پاکستان کے لیے بہتر ثابت ہوگا۔

تاہم پہلے دن کی بیٹنگ نے ایک مرتبہ پھر وہی مسئلہ سامنے رکھ دیا جس کا سامنا پاکستان کو پہلے دونوں ٹیسٹ میں کرنا پڑا تھا۔

نئے کھلاڑیوں میں رزا اللہ نے بولنگ میں متاثر کیا، لیکن بیٹنگ میں ٹیم مجموعی طور پر انگلینڈ کے فاسٹ بولنگ اٹیک کے سامنے بے بس نظر آئی۔

پاکستان کے ٹاپ فائیو کی ناکامی تشویشناک

پاکستانی بیٹنگ کی صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ابتدائی پانچ بلے بازوں میں سے کوئی بھی 10 رنز تک نہیں پہنچ سکا۔

ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی ٹیم کے لیے اس طرح کا آغاز انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے، خصوصاً اس وقت جب مقابل ٹیم کے پاس انگلینڈ جیسا مضبوط فاسٹ بولنگ اٹیک موجود ہو۔

پاکستان کے لیے اب سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے بعد بیٹنگ لائن کو کس طرح مستحکم کیا جائے۔

انگلینڈ کی کنڈیشنز میں پاکستانی بیٹنگ پھر مشکلات کا شکار

انگلینڈ میں ٹیسٹ کرکٹ کے دوران موسم، ہوا اور پچ کی صورتحال فاسٹ بولرز کے لیے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

ایجبسٹن میں پہلے دن بھی انگلینڈ کے فاسٹ بولرز نے ان حالات کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ پاکستانی بلے بازوں کو گیند کی حرکت اور مسلسل دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔

سعود شکیل نے میچ کے بعد کی صورتحال میں بھی تسلیم کیا کہ حالات مشکل تھے اور گیند میں سائیڈ وے موومنٹ موجود تھی۔

پاکستان کے لیے اب بولنگ اہم کردار ادا کرے گی

133 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کے پاس میچ میں واپس آنے کا سب سے بڑا راستہ اس کی بولنگ ہے۔

اگر پاکستانی فاسٹ بولرز دوسرے دن کے آغاز میں انگلینڈ کی باقی چھ وکٹیں جلد حاصل کرلیتے ہیں تو میزبان ٹیم کی برتری محدود رکھی جاسکتی ہے۔

رزا اللہ پہلے ہی اپنے ڈیبیو پر دو اہم وکٹیں حاصل کرچکے ہیں، جبکہ محمد عباس اور محمد علی نے بھی ابتدائی مرحلے میں انگلینڈ کو نقصان پہنچایا۔

پاکستان کو اب انہی بولرز سے امید ہوگی کہ وہ انگلینڈ کو بڑا مجموعہ بنانے سے روکیں۔

پاکستان کے لیے آخری ٹیسٹ میں عزت بچانے کا موقع

اگرچہ انگلینڈ سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرچکا ہے، لیکن پاکستان کے لیے تیسرا ٹیسٹ اب بھی اہم ہے۔

ایک طرف ٹیم سیریز کو وائٹ واش سے بچانے کی کوشش کرے گی، جبکہ دوسری جانب نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی صلاحیت ثابت کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

خاص طور پر رزا اللہ کی کارکردگی نے پاکستانی شائقین کو امید کی ایک وجہ فراہم کی ہے۔ اگر وہ اگلی اننگز میں بھی اسی اعتماد کے ساتھ بولنگ کرتے ہیں تو پاکستان کے لیے میچ میں واپسی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

دوسرے دن پاکستان کی حکمت عملی کیا ہوگی؟

پاکستان کے لیے دوسرے دن کا بنیادی ہدف انگلینڈ کی باقی وکٹیں جلد حاصل کرنا ہوگا۔

اگر انگلینڈ 200 سے کم رنز کی مجموعی برتری حاصل کرتا ہے تو پاکستان کو دوسری اننگز میں بہتر بیٹنگ کے ذریعے میچ کو دلچسپ بنانے کا موقع مل سکتا ہے۔

لیکن اگر انگلینڈ کی برتری 250 یا اس سے زیادہ تک پہنچ گئی تو پاکستان کے لیے میچ بچانا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

اس لیے دوسرے دن کے ابتدائی ایک سے دو گھنٹے میچ کا رخ متعین کرنے میں انتہائی اہم ہوں گے۔

پاکستانی شائقین کی نظریں رزا اللہ پر

پاکستانی شائقین کے لیے پہلے دن کی مایوسی میں رزا اللہ کی کارکردگی ایک مثبت خبر بن کر سامنے آئی ہے۔

صرف آٹھ فرسٹ کلاس میچوں کے تجربے کے ساتھ ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے اس نوجوان فاسٹ بولر نے اپنی رفتار اور انداز سے انگلینڈ کے بلے بازوں کو متاثر کیا۔

انہوں نے جو روٹ اور ایمیلیو گے جیسے اہم بلے بازوں کو آؤٹ کیا اور 90 میل فی گھنٹہ کے قریب رفتار سے بھی گیندیں کرائیں۔

اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کا نیا فاسٹ بولنگ ٹیلنٹ آنے والے دنوں میں اپنی اس کارکردگی کو کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے۔

خلاصہ

انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز پاکستان کرکٹ ٹیم کو بیٹنگ میں ایک اور بڑا دھچکا لگا۔ پاکستان کی پوری ٹیم صرف 133 رنز پر آؤٹ ہوگئی، جبکہ انگلینڈ نے دن کے اختتام تک 156 رنز بنا کر 23 رنز کی برتری حاصل کرلی۔

پاکستان کی جانب سے سعود شکیل 43 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے جبکہ محمد عباس نے 21 رنز بنائے۔ انگلینڈ کے جوش ٹنگ نے 4، اولی رابنسن نے 3 اور جوفرا آرچر نے 3 وکٹیں حاصل کیں۔

دوسری جانب پاکستان کے ڈیبیو کرنے والے نوجوان فاسٹ بولر رزا اللہ نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے جو روٹ اور ایمیلیو گے کی وکٹیں حاصل کیں۔

اب پاکستان کی نظریں دوسرے دن کی بولنگ پر ہیں۔ اگر پاکستانی بولرز انگلینڈ کو محدود برتری تک روکنے میں کامیاب ہوگئے تو میچ میں واپسی کا راستہ کھل سکتا ہے، لیکن اگر انگلینڈ نے بڑا اسکور بنالیا تو پاکستان کے لیے سیریز کے آخری ٹیسٹ میں مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!