لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کو انگلینڈ کے ہاتھوں 194 رنز سے شکست
لندن: انگلینڈ نے لارڈز میں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر تین میچز پر مشتمل ٹیسٹ سیریز میں 2-0 کی ناقابلِ شکست برتری حاصل کرلی۔ پاکستان کے سامنے 389 رنز کا ہدف تھا، تاہم پوری ٹیم دوسری اننگز میں 194 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔
پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 290 رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ محمد علی نے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ انگلینڈ کی جانب سے جیمی اسمتھ نے 61، جارڈن کاکس نے 55 اور گس اٹکنسن نے 45 رنز بنائے۔
انگلینڈ کے 290 رنز کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز انتہائی مایوس کن ثابت ہوئی اور قومی ٹیم صرف 110 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔ پاکستان کی جانب سے اذان اویس 46 رنز بنا کر نمایاں رہے، جبکہ دیگر بیٹرز انگلش باؤلرز کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کرسکے۔
انگلینڈ کے اولی رابنسن نے پہلی اننگز میں تباہ کن باؤلنگ کرتے ہوئے صرف 11 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔ جوفرا آرچر نے 3 جبکہ جوش ٹنگ نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کے 110 رنز پر آؤٹ ہونے کے بعد انگلینڈ نے دوسری اننگز میں 208 رنز بنائے اور پاکستان کو جیت کے لیے 389 رنز کا ہدف دیا۔ پاکستان کے محمد عباس نے دوسری اننگز میں بھی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں۔ یوں محمد عباس نے میچ میں مجموعی طور پر 9 وکٹیں اپنے نام کیں۔
389 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی بیٹنگ ایک بار پھر مشکلات کا شکار رہی۔ کپتان شان مسعود نے 26 رنز بنائے جبکہ بابر اعظم صرف 6 رنز بنا سکے۔ عبداللہ شفیق صفر پر آؤٹ ہوئے اور محمد رضوان بھی صرف ایک رن بنا سکے۔
پاکستان کی جانب سے سعود شکیل نے سب سے زیادہ مزاحمت کی۔ انہوں نے 122 گیندوں پر 97 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس میں 13 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے، تاہم وہ سنچری مکمل کرنے سے صرف 3 رنز قبل جوش ٹنگ کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔
سعود شکیل کی مزاحمت ختم ہونے کے بعد پاکستان کی اننگز زیادہ دیر نہ چل سکی اور پوری ٹیم 50.5 اوورز میں 194 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن نے دوسری اننگز میں 4، جوش ٹنگ نے 3 اور جوفرا آرچر نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔
اولی رابنسن کو میچ میں شاندار باؤلنگ پر پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا۔ انہوں نے دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 8 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کی بیٹنگ کے لیے ایک اور مشکل پہلو امام الحق کی عدم دستیابی رہی۔ وہ انجری کے باعث دونوں اننگز میں بیٹنگ نہیں کرسکے اور انہیں "Absent Hurt" قرار دیا گیا۔
لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد انگلینڈ نے تین میچز کی سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے۔ سیریز کا تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے ایجبسٹن میں کھیلا جائے گا، جہاں پاکستان کی کوشش ہوگی کہ وہ سیریز کا آخری میچ جیت کر وائٹ واش سے بچ سکے۔
پاکستان کے لیے لارڈز ٹیسٹ میں شکست کی سب سے بڑی وجہ بیٹنگ کا مسلسل ناکام رہنا رہی۔ قومی ٹیم پہلی اننگز میں صرف 110 جبکہ دوسری اننگز میں 194 رنز بنا سکی، جبکہ انگلینڈ کے باؤلرز نے دونوں اننگز میں پاکستانی بیٹرز پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!