Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

امام الحق اور محمد رضوان ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کیلئے نااہل قرار

امام الحق اور محمد رضوان کو فٹنس ٹیسٹ رپورٹس جمع نہ کرانے کے باعث ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا، دونوں کھلاڑی پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے پہلے راؤنڈ میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

امام الحق اور محمد رضوان ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کیلئے نااہل قرار

قومی کرکٹ ٹیم کے اہم کھلاڑی امام الحق اور محمد رضوان کو فٹنس ٹیسٹ رپورٹس جمع نہ کرانے کے باعث ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔ دونوں کرکٹرز پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے پہلے راؤنڈ میں اپنی متعلقہ ٹیموں کی نمائندگی نہیں کرسکیں گے۔

فٹنس ٹیسٹ نہ دینے پر کارروائی

رپورٹس کے مطابق امام الحق اور محمد رضوان نے اپنی ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو مقررہ فٹنس ٹیسٹ نہیں دیے، جس کے باعث ان کی فٹنس رپورٹس پاکستان کرکٹ بورڈ کو موصول نہیں ہوئیں۔

پی سی بی کے قواعد کے تحت فرسٹ کلاس کرکٹ میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کی فٹنس ٹیسٹ رپورٹس جمع کرانا لازمی ہے۔ اسی شرط کی تکمیل نہ ہونے پر دونوں کرکٹرز کو پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے پہلے مرحلے سے باہر ہونا پڑا ہے۔

پریذیڈنٹ ٹرافی میں شرکت نہیں کرسکیں گے

پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کا آغاز 12 ستمبر سے راولپنڈی، اسلام آباد، ایبٹ آباد اور پشاور میں ہونا ہے۔

امام الحق نے او جی ڈی سی ایل کی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے پی ٹی وی کے خلاف میچ کھیلنا تھا، تاہم فٹنس ٹیسٹ کی شرط پوری نہ ہونے کے باعث وہ اس میچ میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

دوسری جانب محمد رضوان کو سوئی ناردرن گیس کی ٹیم کی قیادت کرنا تھی۔ شان مسعود کی پہلے راؤنڈ میں عدم دستیابی کے باعث رضوان کو ٹیم کی قیادت سونپی جانی تھی، لیکن اب وہ بھی پہلے راؤنڈ سے باہر ہوگئے ہیں۔

دونوں کھلاڑی پہلے ہی انگلینڈ سے واپس آچکے ہیں

امام الحق اور محمد رضوان ان سات کھلاڑیوں میں شامل تھے جنہیں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ نے وطن واپس بھیج دیا تھا۔

انگلینڈ کے خلاف ابتدائی دو ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد پی سی بی نے قومی اسکواڈ میں بڑی تبدیلیاں کیں، جس کے نتیجے میں دونوں سینئر کھلاڑیوں سمیت سات کرکٹرز کو ٹیم سے الگ کردیا گیا۔

پی سی بی کی داخلی انکوائری بھی جاری

دونوں کرکٹرز کو ڈومیسٹک کرکٹ سے باہر کیے جانے کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کے دورہ انگلینڈ کے دوران کھلاڑیوں کے ڈسپلن اور کنڈکٹ سے متعلق داخلی تحقیقات بھی شروع کر رکھی ہیں۔

پی سی بی نے کہا تھا کہ میڈیا رپورٹس کے بعد ڈسپلن اور رویے سے متعلق معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات بورڈ کے معمول کے ضوابط کے مطابق کی جارہی ہیں۔

این سی سی آئی اے میں بھی پیشی

دوسری جانب امام الحق اور محمد رضوان حال ہی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سامنے بھی پیش ہوئے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق دونوں سے لاہور میں پوچھ گچھ کی گئی، تاہم ان سے پوچھے گئے سوالات کی مکمل تفصیلات عوامی طور پر سامنے نہیں آئی ہیں۔

یہ معاملہ پی سی بی کی داخلی انکوائری سے منسلک ہے یا نہیں، اس بارے میں بھی واضح سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔

سینٹرل کنٹریکٹ پر بھی سوالات

رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں تمام کرکٹرز کے لیے کم از کم پانچ میچز کھیلنے کی شرط عائد کر رکھی ہے۔

ایسی صورتحال میں امام الحق اور محمد رضوان کے لیے مستقبل میں سینٹرل کنٹریکٹ برقرار رکھنا بھی ایک اہم سوال بن گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ پی سی بی کی جانب سے ہی کیا جائے گا۔

دونوں کھلاڑیوں کے مستقبل پر نظریں

امام الحق اور محمد رضوان پاکستان کے تجربہ کار کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں اور دونوں مختلف فارمیٹس میں قومی ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں۔

ڈومیسٹک کرکٹ سے موجودہ صورتحال میں باہر ہونا ان کے لیے اس لیے بھی اہم ہے کہ ڈومیسٹک مقابلے قومی ٹیم سے باہر کھلاڑیوں کو میچ پریکٹس اور اپنی فٹنس ثابت کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

اب یہ دیکھنا ہوگا کہ دونوں کرکٹرز مقررہ فٹنس ٹیسٹ کب مکمل کرتے ہیں اور انہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کا موقع کب ملتا ہے۔

نتیجہ

امام الحق اور محمد رضوان کو مقررہ فٹنس ٹیسٹ رپورٹس جمع نہ کرانے کے باعث پریذیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کے پہلے راؤنڈ میں کھیلنے سے روک دیا گیا ہے۔ دونوں کھلاڑی پہلے ہی دورہ انگلینڈ سے وطن واپس بھیجے جاچکے ہیں اور ان سے متعلق دیگر معاملات پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!