بھارت سے 25 پاکستانی ماہی گیر وطن واپس پہنچ گئے، واہگہ بارڈر پر پہنچنے کے بعد حوالگی
لاہور: بھارت کی مختلف جیلوں سے رہائی پانے والے 25 پاکستانی ماہی گیر واہگہ-اٹاری سرحد کے راستے وطن واپس پہنچ گئے۔ رہائی کے بعد پاکستانی شہریوں کو واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کیا گیا، جہاں ان کی شناخت اور دیگر ضروری کارروائی مکمل کی گئی۔
وطن واپس آنے والے 25 افراد کا تعلق پاکستانی ماہی گیر برادری سے بتایا گیا ہے۔ ان شہریوں کو بھارتی حکام نے مختلف مواقع پر سمندری حدود کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ رہائی کے بعد انہیں اٹاری کے راستے واہگہ سرحد تک لایا گیا، جہاں پاکستانی حکام نے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا۔
25 پاکستانی ماہی گیر وطن واپس آگئے
بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی ماہی گیروں کی وطن واپسی کا عمل دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے سلسلے کی ایک تازہ پیش رفت ہے۔ واہگہ بارڈر پہنچنے کے بعد پاکستانی حکام نے واپس آنے والے شہریوں کی ضروری دستاویزات اور شناخت کی جانچ مکمل کی۔
فشرمینز کوآپریٹو سوسائٹی کے مطابق واپس آنے والے ماہی گیروں کا تعلق کراچی اور ٹھٹھہ سے ہے۔ طویل عرصے تک بھارتی جیلوں میں رہنے کے بعد اپنے ملک واپس پہنچنے پر ماہی گیروں اور ان کے اہل خانہ کے لیے یہ ایک اہم اور خوشی کا موقع ہے۔
سمندری حدود کی خلاف ورزی پر گرفتاریاں
پاکستان اور بھارت کے درمیان سمندری حدود میں ماہی گیروں کی گرفتاری کا معاملہ کئی برسوں سے چلا آرہا ہے۔ ماہی گیری کے دوران بعض اوقات پاکستانی یا بھارتی کشتیاں سمندری سرحد عبور کرکے دوسرے ملک کی حدود میں داخل ہوجاتی ہیں۔
سمندر میں واضح نشانات نہ ہونے اور جدید نیوی گیشن سہولیات کی کمی کے باعث ماہی گیروں کے غیر ارادی طور پر سرحد عبور کرنے کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ ایسے واقعات کے بعد متعلقہ ملک کے سیکیورٹی ادارے ماہی گیروں کو گرفتار کرلیتے ہیں اور ان کی کشتیاں بھی قبضے میں لے لی جاتی ہیں۔
اسی نوعیت کے معاملات میں پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے شہری ماہی گیروں کو قید کرتے رہے ہیں۔
پاکستانی حکام نے واہگہ بارڈر پر حوالگی مکمل کی
پاکستان واپس آنے والے ماہی گیروں کی واہگہ بارڈر پر پاکستانی حکام نے حوالگی وصول کی۔ اس موقع پر متعلقہ اداروں کی جانب سے ضروری قانونی اور انتظامی کارروائی مکمل کی گئی۔
پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے بھی بھارتی حکام کے ساتھ رابطے اور پاکستانی شہریوں کی وطن واپسی کے عمل میں سہولت فراہم کی جاتی رہی ہے۔
قیدیوں کی وطن واپسی کے معاملات میں سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کی قومیت کی تصدیق بھی ایک اہم مرحلہ ہوتی ہے۔
پاکستان اور بھارت میں قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ
پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ایک طے شدہ طریقہ کار کے تحت کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو اپنی جیلوں میں موجود دوسرے ملک کے شہریوں کی فہرستیں ایک دوسرے کو فراہم کرتے ہیں۔
اس عمل کا مقصد قیدیوں کی شناخت، قومیت کی تصدیق اور ان کی قانونی حیثیت سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرنا ہے۔
ماہی گیروں کے معاملات میں یہ عمل مزید اہم ہوجاتا ہے کیونکہ بعض افراد کو اپنی قومیت کی تصدیق اور قانونی کارروائی مکمل ہونے تک طویل عرصہ جیل میں گزارنا پڑتا ہے۔
بھارت میں مزید پاکستانی شہری بھی قید
25 پاکستانی ماہی گیروں کی وطن واپسی کے باوجود بھارت کی جیلوں میں مزید پاکستانی شہری موجود ہیں۔ ان میں ماہی گیر اور دیگر قیدی شامل ہیں۔
پاکستان کی جانب سے ایسے شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی کا معاملہ بھارتی حکام کے ساتھ سفارتی سطح پر اٹھایا جاتا رہا ہے، خاص طور پر ان قیدیوں کے معاملات جن کی سزائیں مکمل ہوچکی ہیں یا جن کی پاکستانی شہریت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ ایسے شہریوں کو قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد جلد از جلد وطن واپس بھیجا جانا چاہیے۔
ماہی گیروں کی واپسی اہل خانہ کے لیے خوشی کا باعث
بھارتی جیلوں میں طویل عرصے تک قید رہنے والے ماہی گیروں کی وطن واپسی سے ان کے اہل خانہ کو بھی بڑی امید اور خوشی ملی ہے۔ سمندر میں روزگار کے لیے جانے والے ماہی گیر کئی مرتبہ غیر ارادی طور پر سرحد پار کرجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں گرفتاری اور قید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ماہی گیر برادری کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایسے معاملات کو انسانی بنیادوں پر جلد حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ معمولی یا غیر ارادی سرحدی خلاف ورزیوں کی وجہ سے غریب خاندان طویل عرصے تک اپنے پیاروں سے محروم نہ رہیں۔
25 پاکستانی ماہی گیروں کی وطن واپسی اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم دونوں ممالک کی جیلوں میں موجود دیگر شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی کا معاملہ اب بھی اہم ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے دیگر پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے لیے بھی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کی توقع ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!