Tuesday, September 22, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان اور ایران کا باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے تجارت، معیشت، سیاحت، سیاست، ثقافت اور سائنس سمیت مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اظہار کیا۔

پاکستان اور ایران کا باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق

پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ یہ پیش رفت وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورۂ ایران کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں میں سامنے آئی۔

پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سیاسی رابطوں کے ساتھ ساتھ تجارت، معیشت، سیاحت، ثقافت، سائنس اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت ہوئی۔

محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات

وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون کو مختلف شعبوں میں مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ان شعبوں میں تجارت، معیشت، سیاحت، سیاست، ثقافت اور سائنس شامل ہیں۔

ایرانی صدر نے بھی دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطے اور باہمی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان اور ایران اپنی داخلی اور علاقائی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔

ایرانی وزیر داخلہ سے بھی ملاقات

محسن نقوی نے اپنے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی سے بھی ملاقات کی۔ دونوں وزرائے داخلہ نے دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں وزارتِ داخلہ کی سطح پر جاری تعاون کا جائزہ لیا۔

پاکستانی وزارتِ داخلہ کے مطابق ملاقات میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور علاقائی امن و استحکام سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی وزیر داخلہ نے محسن نقوی کے حالیہ دورے کو مفید قرار دیتے ہوئے پاکستان کی جانب سے علاقائی امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

تجارت اور معاشی تعاون پر بھی توجہ

پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے کی کوششیں حالیہ مہینوں میں بھی جاری رہی ہیں۔ اگست 2026 میں دونوں ممالک نے مشترکہ تجارتی کمیٹی کے دسویں اجلاس کے اختتام پر دوطرفہ تجارت کو وسعت دینے کے لیے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا تھا۔

پاکستانی حکومت کے مطابق دونوں ممالک نے سالانہ دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے لیے کام جاری رکھنے، بارٹر تجارت بڑھانے، کاروباری روابط مضبوط کرنے، صنعتی تعاون اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور مشترکہ سرحدی منڈیوں کو فعال بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

دونوں جانب سے تجارت میں رکاوٹیں کم کرنے، کسٹمز تعاون بہتر بنانے، نقل و حمل اور لاجسٹکس کے نظام کو مؤثر بنانے اور سرحدی بنیادی ڈھانچے میں بہتری پر بھی زور دیا گیا تھا۔

سڑک اور ریلوے رابطوں میں بہتری

جون 2026 میں پاکستان اور ایران نے سڑک اور ریلوے روابط مضبوط بنانے اور دوطرفہ تجارت کے لیے ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک نے پاکستان ایران مشترکہ ٹرانسپورٹ کمیٹی کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا، جبکہ سرحد پر ٹرکوں اور کنٹینرز کی کلیئرنس سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔

بہتر زمینی رابطوں کو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کے لیے اہم قرار دیا جاتا ہے، خصوصاً سرحدی تجارت اور تجارتی سامان کی نقل و حرکت کے حوالے سے۔

علاقائی صورتحال بھی زیر بحث

پاکستان اور ایران کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی رابطوں میں دوطرفہ امور کے ساتھ خطے کی سکیورٹی صورتحال بھی زیر بحث رہی ہے۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ایران اور دیگر فریقوں کے درمیان سفارتی رابطوں کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششوں میں مصروف رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حالیہ ملاقات میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ علاقائی صورتحال، تحمل، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے امن کے عزم پر بات کی تھی۔

پاکستان ایران تعلقات کی اہمیت

پاکستان اور ایران طویل مشترکہ سرحد، تاریخی روابط اور باہمی تجارتی و ثقافتی تعلقات رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت، توانائی، ٹرانسپورٹ، سکیورٹی اور عوامی روابط اہم دوطرفہ موضوعات ہیں۔

تعاون میں اضافے سے سرحدی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں اور قانونی آمدورفت کو بہتر بنانے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے طے شدہ معاہدوں اور فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد بھی اہم ہوگا۔

آئندہ تعاون کے امکانات

تازہ رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اور ایران مختلف شعبوں میں رابطوں کو برقرار رکھنے اور تعاون کو مزید وسعت دینے پر توجہ دے رہے ہیں۔ تجارت کے لیے 10 ارب ڈالر کے ہدف، مشترکہ سرحدی منڈیوں، ٹرانسپورٹ روابط اور کسٹمز تعاون سے متعلق پہلے سے جاری اقدامات اس سلسلے کا حصہ ہیں۔

آنے والے عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مشترکہ ادارہ جاتی فورمز کے ذریعے ان فیصلوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

نتیجہ

پاکستان اور ایران نے دوطرفہ تعاون کو مختلف شعبوں میں مزید بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ حالیہ رابطوں میں سیاسی و علاقائی امور کے ساتھ تجارت، معیشت، ٹرانسپورٹ، ثقافت، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون پر توجہ دی گئی، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور زمینی رابطوں کو وسعت دینے کے لیے پہلے سے بھی متعدد اقدامات جاری ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!