Saturday, September 26, 2026
FB
تازہ ترین

ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان کی اہم بیٹھک، دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان نے ریاض میں اہم اجلاس کے دوران علاقائی سکیورٹی صورتحال اور سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے باہمی انضمام کے ذریعے مشترکہ دفاع کو مزید مؤثر بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان کی اہم بیٹھک، دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان نے ریاض میں اہم اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون مزید آگے بڑھانے اور مشترکہ سکیورٹی رابطوں کو مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اجلاس میں پاکستان کی جانب سے چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی اور ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بایراکتار اوغلو نے شرکت کی۔

ریاض اجلاس میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ

تینوں ممالک کے عسکری سربراہان نے سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی صورتحال اور خطرات کا جائزہ لیا۔ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سکیورٹی کشیدگی برقرار ہے اور سعودی عرب کو یمن سے حوثی حملوں کا سامنا ہے۔

اجلاس میں مکہ مکرمہ اور سعودی عرب کی شہری و اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت بھی کی گئی۔ شرکا نے سعودی مسلح افواج کی سکیورٹی اور عوام کے تحفظ کے لیے مستعدی کو سراہا۔

دفاعی تعاون بڑھانے پر گفتگو

ملاقات میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی مسلح افواج کے درمیان تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت ہوئی۔

خاص طور پر انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے باہمی انضمام کو مضبوط بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد تینوں ممالک کی دفاعی ہم آہنگی اور مشترکہ دفاعی صلاحیت کو مزید بہتر بنانا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پس منظر

یہ اجلاس مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ہوا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو اس معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کرنے کی شق شامل ہے۔ معاہدے کا مقصد اجتماعی دفاع، دفاعی تعاون اور علاقائی سلامتی کے لیے مشترکہ نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

تینوں ممالک کے درمیان عسکری رابطہ

ریاض کا تازہ اجلاس اس معاہدے کو عملی شکل دینے کے سلسلے کی ایک اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ تینوں ممالک پہلے ہی معاہدے کے تحت ادارہ جاتی ڈھانچے اور مختلف کمیٹیوں کے قیام پر کام کر رہے ہیں۔

اگست کے آخر میں استنبول میں معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی ہوا تھا، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری سربراہان شریک ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں دفاعی صلاحیتوں کی ترقی، افواج کے درمیان باہمی مطابقت، دفاعی صنعت میں تعاون اور مشترکہ اقدامات سمیت مختلف امور زیر بحث آئے تھے۔

سعودی عرب کی سلامتی پر مشترکہ مؤقف

ریاض اجلاس میں تینوں ممالک کے عسکری سربراہان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اجتماعی دفاع کے عزم کا اعادہ کیا۔

سرکاری بیان کے مطابق شرکا نے تینوں ممالک کے عوام اور مسلح افواج کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی اعتماد کو بھی سراہا۔ اجلاس کو تینوں ملکوں کے دفاعی شراکت داری کے عزم کی عکاسی قرار دیا گیا۔

علاقائی سکیورٹی صورتحال

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان عسکری تعاون میں حالیہ عرصے کے دوران پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں متعدد سکیورٹی چیلنجز موجود ہیں۔

سعودی عرب کو یمن میں حوثی حملوں کا سامنا ہے جبکہ خطے میں وسیع تر کشیدگی نے خلیجی ممالک کی سکیورٹی صورتحال کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسی پس منظر میں تینوں ممالک کے درمیان انٹیلی جنس، عسکری رابطوں اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستان کا کردار

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی اور عسکری تعلقات موجود ہیں، جبکہ ترکیہ کے ساتھ بھی پاکستان کے دفاعی روابط میں گزشتہ برسوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے ان دوطرفہ روابط کو تین ملکی دفاعی تعاون کے ایک فریم ورک میں جوڑنے کی بنیاد فراہم کی ہے۔ ریاض اجلاس میں اسی تعاون کو عملی سطح پر آگے بڑھانے کے لیے عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے انضمام پر توجہ دی گئی۔

آئندہ تعاون کی سمت

تینوں ممالک کے درمیان جاری رابطوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ادارہ جاتی اور عسکری تعاون کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

آئندہ اس تعاون میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، مشترکہ عسکری رابطہ کاری، دفاعی صلاحیتوں میں ہم آہنگی اور دیگر طے شدہ شعبوں میں عملی اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان اقدامات کی تفصیلات متعلقہ ممالک کی آئندہ سرکاری اعلانات اور اجلاسوں میں واضح ہوں گی۔

نتیجہ

ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے عسکری سربراہان کی ملاقات میں علاقائی سکیورٹی صورتحال اور سعودی عرب کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا گیا۔ تینوں جانب سے انٹیلی جنس تعاون، عسکری رابطہ کاری اور دفاعی صلاحیتوں کے باہمی انضمام کو مضبوط بنانے پر بات چیت ہوئی، جبکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اجتماعی دفاع کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!