ایف بی آر کا نیشنل فیس لیس سینٹر قائم
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس نظام میں اصلاحات کے تحت اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کر دیا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق یہ مرکز پاکستان میں ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی لانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
ایف بی آر نے 25 ستمبر 2026 کو جاری بیان میں بتایا کہ نیشنل فیس لیس سینٹر کے قیام کا فیصلہ بورڈ ان کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ نئے نظام کا مقصد ٹیکس گزاروں اور ٹیکس افسران کے درمیان براہ راست رابطے کو ختم کرتے ہوئے ٹیکس کارروائی کو ڈیجیٹل اور زیادہ منظم بنانا ہے۔
ٹیکس کیسز کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ نظام سے
نئے نظام میں کسی ٹیکس افسر کو اپنی صوابدید پر آڈٹ کیس منتخب کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ ایف بی آر کے مطابق کیسز کا انتخاب کمپیوٹرائزڈ اور رسک بیسڈ نظام کے ذریعے کیا جائے گا۔
کیس منتخب ہونے کے بعد اسے ملک کے کسی بھی حصے میں موجود متعلقہ افسر کو خودکار طریقے سے تفویض کیا جا سکے گا۔ ٹیکس گزار کو اس افسر کی شناخت معلوم نہیں ہوگی جبکہ متعلقہ افسر بھی کیس کے انتخاب یا اپنی مرضی سے کیس حاصل کرنے میں کوئی اختیار نہیں رکھے گا۔
اس طریقہ کار کا مقصد کیس کے انتخاب اور افسر کی تعیناتی میں انسانی صوابدید کو کم کرنا اور فیصلوں کو ڈیٹا کی بنیاد پر انجام دینا ہے۔
ایک کیس تین مختلف مراحل سے گزرے گا
فیس لیس نظام میں کسی ایک افسر کو ٹیکس گزار کے کیس پر شروع سے آخر تک مکمل اختیار حاصل نہیں ہوگا۔
ایف بی آر کے مطابق ہر کیس تین الگ مراحل سے گزرے گا۔ پہلے افسر کی ذمہ داری آڈٹ کرنا ہوگی، دوسرا افسر اسیسمنٹ کرے گا جبکہ تیسرا افسر حتمی حکم جاری ہونے سے قبل کارروائی اور کام کے معیار کا جائزہ لے گا۔
اس انتظام کے ذریعے آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول کے مراحل کو ایک دوسرے سے الگ رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نوٹس اور سماعتیں بھی آن لائن ہوں گی
نئے نظام کے تحت ٹیکس کارروائی کے زیادہ تر مراحل الیکٹرانک طریقے سے مکمل کیے جائیں گے۔ ایف بی آر کے مطابق ٹیکس نوٹس، ٹیکس گزاروں کے جوابات اور سماعتیں ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس نظام کے ذریعے ہوں گی۔
جہاں قانون کے تحت موقع پر تصدیق یا ٹیکس وصولی کے لیے فیلڈ کارروائی ضروری ہوگی، وہاں یہ ذمہ داری الگ فیلڈ ٹیم انجام دے گی۔ یوں فیس لیس نظام میں آن لائن ٹیکس کارروائی اور ضروری زمینی کارروائی کو الگ رکھا جائے گا۔
نیشنل فیس لیس سینٹر کا قانونی اختیار
ایف بی آر کے مطابق نیشنل فیس لیس سینٹر کو قانونی اختیار فنانس ایکٹ 2026 سے حاصل ہے۔ مرکز کی سربراہی چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو کرے گا۔
مرکز میں فیس لیس آڈٹ، فیس لیس اسیسمنٹ، کوالٹی کنٹرول اور فیلڈ آپریشنز کے لیے الگ شعبے قائم کیے جائیں گے۔ اس نظام کے نفاذ اور نگرانی کے لیے پروگرام مینجمنٹ یونٹ بھی قائم کیا جا چکا ہے۔
فنانس بل 2026 میں انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت فیس لیس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے لیے قانونی فریم ورک بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت مخصوص افراد، آمدن یا کیسز کو بورڈ کی جانب سے فیس لیس طریقہ کار کے لیے مقرر کیا جا سکتا ہے۔
پارلیمانی سطح پر پہلے ہی نظام پر بریفنگ
فیس لیس ٹیکس نظام کے حوالے سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بھی جون 2026 میں بریفنگ دی گئی تھی۔
قومی اسمبلی کے مطابق کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ مجوزہ نظام کا مقصد ٹیکس گزاروں اور ٹیکس افسران کے درمیان جسمانی رابطہ کم کرنا، صوابدیدی اختیارات گھٹانا اور ٹیکس انتظامیہ میں ڈیجیٹل اور رسک بیسڈ طریقہ کار متعارف کرانا ہے۔ بریفنگ میں مصنوعی ذہانت پر مبنی رسک مینجمنٹ، کیسز کی بے ترتیب تقسیم، ورچوئل سماعتوں اور کوالٹی اشورنس جیسے پہلو بھی زیر بحث آئے تھے۔
کمیٹی کے ارکان نے اس وقت نظام کی لاگت و فوائد، الگورتھم میں ممکنہ مداخلت، ڈیٹا کی حفاظت، افسران کی جوابدہی اور ایف بی آر کی تکنیکی تیاری سمیت مختلف معاملات پر سوالات بھی اٹھائے تھے۔
ٹیکس گزاروں کے لیے کیا بدلے گا؟
نئے نظام کے تحت آڈٹ کے لیے منتخب ہونے والے ٹیکس گزار کو روایتی انداز میں کسی مخصوص افسر کے دفتر جا کر معاملہ نمٹانے کی ضرورت کم ہو جائے گی۔ ایف بی آر کے مطابق معمول کی کارروائی الیکٹرانک طریقے سے مکمل ہوگی۔
کیس کسی ایک مخصوص دفتر کے بجائے ملک میں موجود متعلقہ افسر کو خودکار طور پر تفویض کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ آڈٹ، اسیسمنٹ اور کوالٹی کنٹرول الگ افسران کے ذریعے ہونے کی وجہ سے ایک ہی افسر کے پاس پورے کیس کا اختیار نہیں ہوگا۔
ایف بی آر کا اصلاحات سے متعلق مؤقف
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ فیس لیس نظام کے ذریعے تمام ٹیکس گزاروں کے لیے یکساں قواعد اور طریقہ کار نافذ کرنے، ٹیکس فیصلوں میں ڈیٹا کے استعمال کو بڑھانے اور براہ راست رابطے سے پیدا ہونے والی شکایات کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایف بی آر کے مطابق نیشنل فیس لیس سینٹر سے ٹیکس کارروائی کو زیادہ تیز، شفاف اور یکساں بنانے کی توقع ہے۔ یہ ایف بی آر کا بیان کردہ مقصد اور توقع ہے، جبکہ نئے نظام کی عملی کارکردگی اس کے نفاذ کے بعد سامنے آئے گی۔
نظام کے نفاذ کا اگلا مرحلہ
نیشنل فیس لیس سینٹر کا قیام ابتدائی ادارہ جاتی مرحلہ ہے، جبکہ اس نظام کے مکمل نفاذ کے لیے تکنیکی اور انتظامی اقدامات بھی ضروری ہوں گے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو جون میں دی گئی بریفنگ کے مطابق فیس لیس اسیسمنٹ اور آڈٹ نظام کا نفاذ مرحلہ وار کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جس کا آغاز اکتوبر 2026 سے اور مکمل انضمام اکتوبر 2027 تک کرنے کی بات کی گئی تھی۔ موجودہ ایف بی آر اعلان میں مرکز کے قیام اور اس کے بنیادی ڈھانچے کی تفصیل دی گئی ہے۔
نتیجہ
ایف بی آر نے اسلام آباد میں نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کرکے ٹیکس آڈٹ اور اسیسمنٹ کے نظام کو ڈیجیٹل اور کمپیوٹرائزڈ بنیادوں پر منتقل کرنے کی جانب اہم انتظامی قدم اٹھایا ہے۔ نئے نظام میں کیسز کا انتخاب رسک بیسڈ کمپیوٹرائزڈ طریقے سے، افسران کو کیسز کی خودکار تقسیم اور آڈٹ و اسیسمنٹ کے الگ مراحل کے ذریعے کرنے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
ٹیکس گزاروں کے لیے اس نظام کی نمایاں تبدیلی براہ راست افسر سے رابطے میں کمی اور آن لائن کارروائی ہے۔ تاہم اس اصلاح کی عملی کامیابی کا انحصار نظام کے مؤثر نفاذ، ڈیٹا سکیورٹی، تکنیکی صلاحیت اور شفاف نگرانی پر ہوگا۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!