Saturday, September 26, 2026
FB
تازہ ترین

ایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش، تہران کا سات روزہ منصوبہ سامنے آگیا

ایران نے امریکا کے ذریعے قطر کے توسط سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ضروری شرائط پوری ہونے کی صورت میں سات روز کے اندر آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جاسکتی ہے۔

ایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش، تہران کا سات روزہ منصوبہ سامنے آگیا

ایران کی آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے امریکا کو سات روزہ منصوبہ پیش کردیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ یہ منصوبہ قطر کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا ہے اور ضروری شرائط پوری ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔

ایرانی پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل اور تیل کی عالمی منڈی متاثر ہوئی ہے۔ یہ آبی راستہ خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

سات روزہ منصوبے میں کیا شامل ہے؟

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد کا وقت امریکا کی جانب سے اتفاق کے بعد شروع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن معاہدے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو تہران کی جانب سے ضروری انتظامات پہلے ہی مکمل ہیں۔

رپورٹس کے مطابق منصوبے میں خطے میں لڑائی روکنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی یا خاتمے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے بعد ساتویں دن آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ترکی کی اناطولیہ ایجنسی کے مطابق عراقچی نے کہا کہ امریکی اقدامات پہلے چار یا پانچ دن میں مکمل کیے جاسکتے ہیں، جس کے بعد چھٹے دن آبنائے ہرمز کھولی جاسکتی ہے اور ساتویں روز تہران اور واشنگٹن کے درمیان حتمی معاہدے پر مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں۔

ایران نے منصوبہ قطر کے ذریعے امریکا کو پہنچایا

ایران نے اپنی پیشکش براہ راست مذاکرات کے بجائے قطر کے ذریعے امریکی حکام تک پہنچائی۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں کے لیے ثالثی کا راستہ استعمال کیا جارہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی حکام نے اس سے قبل بھی 16 ستمبر کو ثالثوں کے ذریعے امریکا کو جنگ بندی اور آبنائے ہرمز سے متعلق تجاویز پہنچائی تھیں۔ بعد ازاں نیویارک میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں کے دوران اس منصوبے کو مزید واضح کیا گیا۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم بحری راستہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتا ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اس آبی راستے کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں طویل عرصے تک رکاوٹ عالمی توانائی کی سپلائی، شپنگ اور ایندھن کی قیمتوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران اس راستے کی بحالی عالمی سفارتی کوششوں کا ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔

ایران کی جانب سے جوہری مذاکرات کا اشارہ

ایرانی پیشکش میں آبنائے ہرمز کھولنے کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام سمیت دیگر معاملات پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔

الجزیرہ کے مطابق ایرانی منصوبے کے خاکے میں پہلے مرحلے میں جنگ بندی اور امریکی اقدامات، دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کی بحالی اور اس کے بعد ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کی تجویز سامنے آئی ہے۔

تاہم رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بعض بنیادی حقوق، بشمول یورینیم افزودگی، پر رعایت دینے کے لیے تیار نہیں۔

امریکا کا ردعمل کیا ہے؟

ایرانی پیشکش کے بعد امریکی ردعمل کے حوالے سے متضاد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس منصوبے کو مسترد کردیا ہے، تاہم اسی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایران کو امریکا کی جانب سے باضابطہ جواب کا انتظار تھا۔

اس لیے منصوبے کی منظوری یا اس پر باضابطہ امریکی اتفاق کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے رابطے جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔

پہلے بھی آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات ہوئے

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ایران اور امریکا کے درمیان آبنائے ہرمز کی بحالی کو وسیع تر جنگ بندی یا سفارتی معاہدے کے ساتھ جوڑنے کی کوشش ہوئی ہو۔

رائٹرز کے مطابق جون میں دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت سامنے آئی تھی جس میں جنگ بندی، بحری آمدورفت کی بحالی اور مزید مذاکرات کا فریم ورک شامل تھا، تاہم یہ انتظام بعد میں برقرار نہ رہ سکا۔

تازہ سات روزہ منصوبہ اسی سابقہ مفاہمتی خاکے سے جڑا ہوا بتایا جارہا ہے، تاہم اس میں عملدرآمد کا دورانیہ مختصر رکھا گیا ہے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کو سات روز کے اندر مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

عالمی توانائی کے لیے اہم پیش رفت

آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق کسی بھی پیش رفت کو عالمی توانائی مارکیٹ میں خاص اہمیت حاصل ہوسکتی ہے، کیونکہ اس راستے سے خلیجی خطے کے اہم توانائی برآمد کنندگان کی ترسیل وابستہ ہے۔

تاہم اس منصوبے پر عملی پیش رفت کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان شرائط پر اتفاق، جنگ بندی کے طریقہ کار اور فریقین کی جانب سے وعدوں پر عملدرآمد پر ہوگا۔ اس وقت یہ منصوبہ ایک سفارتی پیشکش کی حیثیت رکھتا ہے، حتمی معاہدہ نہیں۔

نتیجہ

ایران نے امریکا کو قطر کے ذریعے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے ضروری شرائط پوری ہونے کے بعد سات روز کے اندر آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کی جاسکتی ہے۔

منصوبے میں جنگ بندی، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، ایرانی تیل پر پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی رہائی جیسے اقدامات شامل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم امریکی منظوری اور حتمی معاہدہ ابھی واضح نہیں، جبکہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث منصوبے پر عملدرآمد کا انحصار آئندہ سفارتی مذاکرات پر ہوگا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!