پاکستان نے افغانستان کے صوبہ نورستان میں ہونے والی مبینہ جھڑپوں سے متعلق افغان طالبان حکومت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نورستان یا افغانستان کے کسی بھی داخلی تنازع میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ادارے ملوث نہیں ہیں۔
وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری فیکٹ چیک میں افغان طالبان کے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا گیا جن میں پاکستان پر نورستان میں مسلح عناصر کی مبینہ معاونت، سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی بھرتی یا تربیت اور داعش سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو سہولت فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔
نورستان کے معاملے پر پاکستان کا مؤقف
پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کو نورستان میں مبینہ تشدد یا داخلی جھڑپوں سے جوڑنے کے الزامات کی کوئی قابلِ اعتماد بنیاد موجود نہیں۔
وزارت نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں کسی بھی داخلی لڑائی یا جھڑپ میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے۔ اس کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے افغانستان میں کسی کارروائی میں ملوث ہونے کے دعوے بھی مسترد کیے گئے ہیں۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق الزامات کی حمایت میں کسی فرد کی شناخت، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ، فرانزک شواہد یا آزادانہ تصدیق پیش نہیں کی گئی۔
افغان طالبان کی جانب سے کیا دعویٰ کیا گیا؟
افغان طالبان کی وزارت دفاع کے مطابق نورستان کے ضلع کامدیش میں مبینہ طور پر ایسے مسلح افراد داخل ہوئے تھے جنہیں طالبان نے پاکستان سے آنے والے عناصر سے منسلک کیا۔
دستیاب رپورٹنگ کے مطابق افغان طالبان نے دعویٰ کیا کہ ان کی سیکیورٹی فورسز نے مبینہ دراندازوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 28 افراد کو ہلاک اور 32 کو گرفتار کیا، جبکہ دیگر افراد کے سرحد پار واپس جانے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔
پاکستان نے ان دعوؤں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ اس معاملے میں افغان طالبان کے دعوؤں اور پاکستان کے تردیدی مؤقف کو الگ الگ نسبت کے ساتھ دیکھنا ضروری ہے کیونکہ دونوں جانب سے مختلف مؤقف سامنے آئے ہیں۔
سابق افغان اہلکاروں اور داعش سے متعلق الزامات
پاکستانی وزارت اطلاعات نے سابق افغان سیکیورٹی اہلکاروں کو بھرتی یا تربیت دینے کے الزام کو بھی مسترد کیا ہے۔
اسی طرح وزارت نے داعش یا افغانستان میں سرگرم کسی دوسرے دہشت گرد گروہ کو پاکستان کی جانب سے سہولت فراہم کرنے کے الزام کی بھی تردید کی۔ وزارت کے مطابق ان دعوؤں کے حق میں ایسا قابلِ تصدیق مواد پیش نہیں کیا گیا جس سے پاکستان کے کسی ادارے کا کردار ثابت ہو۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سلامتی، دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ایک دوسرے پر الزامات کے باعث تعلقات میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے۔
مبینہ ویڈیو پر بھی پاکستان کا ردعمل
وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک مبینہ ویڈیو کا بھی حوالہ دیا جسے پاکستان کے خلاف دعوؤں کی حمایت میں استعمال کیا جا رہا تھا۔
پاکستانی وزارت کے مطابق اس ویڈیو میں چند غیرمسلح افراد دکھائی دیتے ہیں، تاہم ویڈیو پاکستان سے ان افراد کے تعلق یا پاکستانی اداروں کی معاونت کا قابلِ تصدیق ثبوت فراہم نہیں کرتی۔ وزارت نے ویڈیو کے پس منظر اور تیاری پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔
اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کسی بھی ویڈیو کی بنیاد پر کسی ملک یا ادارے کے کردار کو حتمی طور پر ثابت کرنے کے لیے اضافی شواہد اور آزادانہ تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
پاکستان نے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا
پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق نورستان کے واقعات میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا، لیکن اس کے حق میں قابلِ تصدیق شواہد فراہم نہیں کیے گئے۔
وزارت نے خاص طور پر شناختی معلومات، دستاویزات، مواصلاتی ریکارڈ، فرانزک شواہد اور آزادانہ تصدیق کی عدم موجودگی کی نشاندہی کی۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ محض الزامات یا سوشل میڈیا پر موجود مواد کو کسی ریاست یا اس کے اداروں کے ملوث ہونے کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر پاکستان کا مؤقف
وزارت اطلاعات نے اپنے بیان میں افغانستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی جانب بھی توجہ دلائی۔ پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
پاکستانی وزارت نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور سرگرمیاں پہلے سے دستاویزی شکل میں سامنے آتی رہی ہیں۔
یہ مؤقف پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان سیکیورٹی سے متعلق وسیع تر اختلافات کا بھی حصہ ہے، جہاں دونوں جانب سے ایک دوسرے کی سرزمین اور سیکیورٹی پالیسیوں سے متعلق مختلف الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔
پاک افغان تعلقات پر ممکنہ اثرات
نورستان سے متعلق حالیہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے معاملے پر اختلافات برقرار ہیں۔
پاکستان مسلسل افغان حکام سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستان کے بعض الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
نورستان کے معاملے میں بھی پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے الزام تراشی کے بجائے قابلِ تصدیق شواہد اور مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں ایسے بیانات سفارتی رابطوں اور سرحدی صورتحال پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں، تاہم ان کے عملی اثرات کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہونے والی پیش رفت سے ہی لگایا جا سکے گا۔
الزامات کی آزادانہ تصدیق کا معاملہ
نورستان کے واقعے سے متعلق دستیاب اطلاعات میں افغان طالبان حکومت اور پاکستان کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔ افغان طالبان نے پاکستان سے آنے والے مبینہ مسلح افراد کی کارروائی کا دعویٰ کیا، جبکہ پاکستان نے کسی بھی قسم کی شمولیت سے انکار کیا ہے۔
دستیاب رپورٹنگ میں پاکستانی وزارت اطلاعات کی جانب سے اس الزام کے خلاف شواہد کی عدم موجودگی پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق محدود ہے۔ اس لیے خبر میں دونوں فریقوں کے مؤقف کو واضح نسبت کے ساتھ بیان کرنا ضروری ہے۔
پاکستان کا افغان طالبان حکومت کو پیغام
پاکستانی وزارت اطلاعات نے افغان طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ اعتماد اور قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے۔
وزارت کے مطابق افغان حکومت کو اپنے اس عزم پر عمل کرنا چاہیے کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔
پاکستان کا یہ مؤقف پاک افغان سیکیورٹی تنازع کے بنیادی نکات میں شامل ہے اور حالیہ عرصے میں دونوں ملکوں کے درمیان بیانات اور احتجاج کے ذریعے اس معاملے پر اختلافات سامنے آتے رہے ہیں۔
نتیجہ
نورستان میں مبینہ جھڑپوں اور مسلح افراد کی موجودگی سے متعلق افغان طالبان حکومت کے الزامات کو پاکستان نے واضح طور پر مسترد کر دیا ہے۔ پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز یا انٹیلی جنس اداروں کے ملوث ہونے کے دعوؤں کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب افغان طالبان کی جانب سے نورستان میں پاکستان سے آنے والے مبینہ مسلح افراد کے خلاف کارروائی اور ہلاکتوں کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ فی الحال دونوں فریقوں کے مؤقف مختلف ہیں، جبکہ واقعے کے تمام دعوؤں کی مکمل آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ یہ معاملہ پاک افغان تعلقات میں جاری سیکیورٹی اور سفارتی کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!