Monday, September 28, 2026
FB
تازہ ترین

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان بیک چینل رابطے بے نتیجہ، سیاسی ڈیڈلاک برقرار

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان بیک چینل رابطے بے نتیجہ، سیاسی ڈیڈلاک برقرار

پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان بیک چینل رابطے بے نتیجہ، سیاسی ڈیڈلاک برقرار

پاکستان تحریک انصاف اور حکام کے درمیان جاری بیک چینل رابطوں کے باوجود سیاسی معاملات پر ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ چار سے پانچ ہفتوں کے دوران ہونے والی نصف درجن سے زائد ملاقاتوں میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی رابطے کا راستہ نکالنے پر بات ہوئی، تاہم دونوں جانب سے قابلِ قبول فارمولے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

رپورٹس کے مطابق رابطوں میں سب سے اہم معاملہ پی ٹی آئی کی اسلام آباد کی جانب مجوزہ احتجاجی سرگرمی تھا۔ حکام کی جانب سے سیاسی معاملات پر گنجائش پیدا کرنے کی بات کی گئی، تاہم احتجاج، سڑکوں کی بندش، تشدد یا اسلام آباد کی جانب بڑے مارچ کو قابلِ قبول قرار نہ دینے کا مؤقف سامنے آیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے اپنے سیاسی مطالبات پر بات چیت کی خواہش ظاہر کی گئی۔

بیک چینل رابطوں میں کیا بات ہوئی؟

ذرائع کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پی ٹی آئی اور حکام کے درمیان براہِ راست رسمی مذاکرات کے بجائے پس پردہ رابطوں کے ذریعے صورتحال کو معمول پر لانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

ان رابطوں کا بنیادی مقصد یہ دیکھنا تھا کہ احتجاجی سیاست کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرتے ہوئے سیاسی رابطے کے لیے کوئی قابلِ عمل راستہ نکالا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تاہم مذاکرات سے واقف ذرائع کے مطابق اعتماد کی کمی اور احتجاجی حکمت عملی سے متعلق اختلافات بڑی رکاوٹ بنے رہے۔

مارچ مؤخر کرنا یا مکمل طور پر ختم کرنا؟

دستیاب رپورٹنگ کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اہم اختلاف یہ رہا کہ پی ٹی آئی اسلام آباد مارچ کو صرف مؤخر کرے گی یا اسے مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

حکام کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ صرف تاریخ تبدیل کرنے سے احتجاج سے متعلق سیکیورٹی خدشات ختم نہیں ہوں گے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی نے اپنے سیاسی مطالبات اور احتجاجی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی بات کی۔

یہی معاملہ بیک چینل رابطوں میں کسی واضح پیش رفت کی راہ میں اہم رکاوٹ کے طور پر سامنے آیا۔

پی ٹی آئی نے مارچ مؤخر کر دیا

اس دوران پی ٹی آئی نے اسلام آباد کی جانب 27 ستمبر کو ہونے والا مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے مارچ مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس فیصلے کا مقصد بات چیت کے ذریعے معاملات کے حل کی کوشش کرنا ہے۔

تاہم مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے کے باوجود حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بنیادی سیاسی اختلافات ختم نہیں ہوئے۔ اس لیے مارچ کا مؤخر ہونا اور حکومت و پی ٹی آئی کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کا آغاز دو الگ معاملات ہیں۔

حکومت کا مذاکرات سے متعلق مؤقف

وزیراعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ نے 24 ستمبر کو کہا تھا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ مؤخر کیے جانے تک باضابطہ مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ان کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بیک چینل رابطے جاری تھے، تاہم رسمی مذاکرات کے لیے مارچ سے متعلق فیصلہ ضروری تھا۔

حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج کے دوران سڑکوں کی بندش اور امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے بھی سخت مؤقف اختیار کیا گیا۔

سیکیورٹی انتظامات بھی برقرار

پی ٹی آئی کے مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کے بعض علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے تھے۔ حکومت نے اسلام آباد اور پنجاب کے بعض اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری بھی دی تھی، جبکہ مختلف علاقوں میں دفعہ 144 کے نفاذ کی اطلاعات سامنے آئیں۔

مارچ مؤخر کیے جانے کے باوجود بعض سیکیورٹی انتظامات برقرار رہنے کی اطلاع ہے۔ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت احتجاجی سرگرمی کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے احتیاطی اقدامات جاری رکھنا چاہتی ہے۔

پی ٹی آئی کا سیاسی مؤقف

پی ٹی آئی کی قیادت کا کہنا ہے کہ اس کے سیاسی اور قانونی مطالبات پر بات چیت کے ذریعے حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مارچ مؤخر کرنے کے بعد کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتی ہے اور اسے کسی مسلح گروپ کے طور پر پیش کرنا درست نہیں۔

ان کے مطابق پارٹی کے بعض مطالبات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج اور ان سے وکلا، رشتہ داروں اور دیگر متعلقہ افراد کی ملاقاتوں سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔

یہ بیانات پی ٹی آئی کے اس مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں کہ احتجاج کے بجائے سیاسی رابطے کے ذریعے معاملات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں، تاہم حکومت اور پارٹی کے درمیان مذاکرات کی شرائط پر اختلاف برقرار ہے۔

پس پردہ رابطوں میں دیگر سیاسی شخصیات کا کردار

حالیہ رابطوں کے دوران بعض دیگر سیاسی شخصیات سے بھی رابطے کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی سے بھی ممکنہ سیاسی راستہ نکالنے کے سلسلے میں رابطہ کیا گیا۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھی محمود خان اچکزئی کو براہِ راست مذاکرات کی دعوت دیے جانے کی اطلاع سامنے آئی، جبکہ پی ٹی آئی کے ترجمان نے اس دعوت کی وصولی کی تصدیق کی۔

تاہم ان رابطوں کے نتیجے میں ابھی تک حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی جامع سیاسی معاہدے یا باضابطہ مذاکراتی عمل کے آغاز کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اعتماد کا فقدان بڑی رکاوٹ

ذرائع کے مطابق دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد کی کمی بھی مذاکراتی عمل میں اہم رکاوٹ ہے۔ اس سے قبل سامنے آنے والی رپورٹنگ میں بھی بتایا گیا تھا کہ پس پردہ رابطوں کے باوجود فریقین کے درمیان اعتماد کا مسئلہ برقرار رہا۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات صرف احتجاجی مارچ تک محدود نہیں بلکہ عدالتی معاملات، سیاسی قیدیوں، احتجاج کے حق، حکومتی اقدامات اور سیاسی رابطوں سمیت کئی معاملات تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ایسی صورتحال میں کسی ایک معاملے پر پیش رفت دوسرے معاملات کے حل سے بھی جڑی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

کیا باضابطہ مذاکرات کا راستہ کھل سکتا ہے؟

فی الحال دستیاب اطلاعات میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان کسی نئے باضابطہ مذاکراتی دور کی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔ تاہم بیک چینل رابطوں کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مختلف سطحوں پر سیاسی کشیدگی کم کرنے کے امکانات پر بات چیت ہو رہی ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ کو 4 اکتوبر تک مؤخر کیے جانے کے بعد دونوں فریقوں کے پاس سیاسی رابطے کے لیے مزید وقت موجود ہے۔ تاہم کسی بھی پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ احتجاجی سرگرمی، سیاسی مطالبات اور حکومتی شرائط کے حوالے سے دونوں جانب سے کس حد تک لچک دکھائی جاتی ہے۔

موجودہ صورتحال کیا ہے؟

موجودہ صورتحال میں اہم بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے اسلام آباد مارچ کی تاریخ آگے بڑھا دی ہے، لیکن حکومت اور پارٹی کے درمیان بنیادی سیاسی اختلافات ختم نہیں ہوئے۔

حکام کے ساتھ بیک چینل رابطوں میں سیاسی گنجائش اور بعض معاملات پر سہولت کے امکانات زیرِ بحث آنے کی اطلاعات ہیں، مگر ذرائع کے مطابق احتجاجی سیاست کے خاتمے اور مارچ کے مستقبل پر اتفاق نہ ہونے کے باعث کوئی حتمی سمجھوتا نہیں ہو سکا۔

آنے والے دنوں میں 4 اکتوبر کے مجوزہ مارچ کے حوالے سے پی ٹی آئی کا فیصلہ اور حکومت کا ردعمل سیاسی صورتحال کے لیے اہم ہوگا۔ تاہم فی الحال کسی حتمی معاہدے یا مذاکراتی بریک تھرو کا اعلان نہیں کیا گیا۔

نتیجہ

پاکستان تحریک انصاف اور حکام کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری بیک چینل رابطوں کے باوجود سیاسی ڈیڈلاک برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق بنیادی اختلاف اسلام آباد مارچ کے مستقبل، احتجاجی سیاست اور سیاسی رابطے کے لیے قابلِ قبول شرائط پر موجود ہے۔

پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کا مارچ 4 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے اور مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنے کی بات کی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے بھی سیاسی رابطے کی گنجائش کا مؤقف سامنے آیا ہے۔ تاہم دونوں فریقوں کے درمیان باقاعدہ مذاکرات اور کسی حتمی سیاسی سمجھوتے کے حوالے سے فی الحال واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!