ریاض میں اسکولوں کی حضوری تعلیم ایک ہفتے کے لیے معطل
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اسکولوں کو ایک ہفتے کے لیے آن لائن تعلیم پر منتقل کردیا گیا ہے۔ مختلف اسکولوں کی جانب سے والدین کو موصول ہونے والے پیغامات کے مطابق حضوری کلاسز کے بجائے آن لائن تدریس کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق یہ انتظام اتوار 27 ستمبر سے جمعرات یکم اکتوبر تک برقرار رہے گا۔ آن لائن کلاسز سعودی عرب کے تعلیمی پلیٹ فارم ’’مدرستی‘‘ کے ذریعے جاری رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس فیصلے کا اطلاق طلبہ کے ساتھ ساتھ تدریسی، تعلیمی اور انتظامی عملے پر بھی کیا گیا ہے۔
والدین کو اچانک فیصلے سے آگاہ کیا گیا
ریاض میں متعدد اسکولوں نے والدین کو ای میلز اور دیگر منظور شدہ مواصلاتی ذرائع کے ذریعے حضوری تعلیم معطل کیے جانے سے آگاہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق بعض والدین کو یہ پیغامات ہفتے کے اختتام پر موصول ہوئے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسکولوں کو سعودی حکام کی جانب سے اسکول عمارتوں میں کلاسز روکنے کی ہدایت موصول ہوئی، تاہم فیصلے کی تفصیلی وجہ اسکولوں کے پیغامات میں بیان نہیں کی گئی۔
حوثی حملوں کے بعد سکیورٹی صورتحال
ریاض میں اسکولوں کو آن لائن منتقل کرنے کا فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سعودی عرب کو یمن میں حوثی گروپ کی جانب سے ڈرون اور میزائل حملوں کا سامنا ہے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے 26 ستمبر کو کہا تھا کہ سعودی فضائی دفاع نے ریاض کی سمت آنے والے دو ڈرونز کو روک کر تباہ کردیا، جبکہ خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل بھی روکنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
اس سے قبل سعودی حکام نے طائف اور بحیرہ احمر کے قریب ینبع کے علاقے کی جانب داغے گئے میزائلوں کو روکنے کی بھی اطلاع دی تھی۔ یہ واقعات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔
فیصلے کی وجہ ابھی باضابطہ طور پر واضح نہیں
ریاض کے اسکولوں کو آن لائن منتقل کرنے اور حالیہ حوثی حملوں کے درمیان زمانی تعلق ضرور موجود ہے، تاہم سعودی حکام نے عوامی طور پر یہ تصدیق نہیں کی کہ اسکول بند کرنے کا فیصلہ براہ راست حوثی حملوں کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق والدین کو موصول ہونے والے اسکول پیغامات میں حکام کی ہدایت کا حوالہ دیا گیا، لیکن فیصلے کی وجہ بیان نہیں کی گئی۔ سعودی وزارت تعلیم کی جانب سے بھی اس اقدام کی وجہ کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی عوامی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
اسی لیے اس فیصلے کو حوثی حملوں کا براہ راست نتیجہ قرار دینے کے بجائے اسے موجودہ علاقائی اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا
حضوری کلاسز معطل ہونے کے باوجود طلبہ کی تعلیم مکمل طور پر روکنے کے بجائے آن لائن منتقل کی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ’’مدرستی‘‘ پلیٹ فارم کے ذریعے طلبہ کو تعلیمی سرگرمیوں سے منسلک رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
تدریسی اور انتظامی عملے کے لیے بھی ریموٹ ورک کا انتظام بتایا گیا ہے، تاکہ اسکولوں کی معمول کی تعلیمی سرگرمیوں کو ممکن حد تک جاری رکھا جاسکے۔
ریاض میں سکیورٹی خدشات کا پس منظر
سعودی عرب میں حالیہ دنوں کے دوران سکیورٹی صورتحال علاقائی کشیدگی کے باعث اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے کے دعوے اور سعودی حکام کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حوثی حملوں میں حالیہ عرصے کے دوران شدت آئی ہے اور سعودی عرب کے مختلف علاقوں کی جانب ڈرونز اور بیلسٹک میزائل بھیجے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
طلبہ اور والدین کے لیے موجودہ صورتحال
ریاض کے طلبہ کو فی الحال اسکول کیمپس جانے کے بجائے آن لائن کلاسز میں شرکت کرنا ہوگی۔ والدین کو اپنے متعلقہ اسکول کی جانب سے کلاس شیڈول، آن لائن پلیٹ فارم اور دیگر تعلیمی ہدایات سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔
اس انتظام کا مقصد ایک ہفتے کے دوران حضوری تعلیمی سرگرمیوں کو معطل رکھتے ہوئے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا ہے۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ
ریاض میں تعلیمی سرگرمیوں کا عارضی طور پر آن لائن منتقل ہونا ایسے وقت ہوا ہے جب خلیج اور مشرق وسطیٰ میں مجموعی سکیورٹی صورتحال میں کشیدگی برقرار ہے۔
سعودی عرب کی جانب آنے والے ڈرونز اور میزائلوں کو روکنے کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ یمن میں بھی لڑائی اور فضائی کارروائیوں سے متعلق مختلف فریقوں کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ ان دعوؤں میں بعض واقعات کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے، اس لیے ہر فریق کے بیان کو اسی کی نسبت سے دیکھنا ضروری ہے۔
نتیجہ
ریاض میں اسکولوں کی حضوری تعلیم ایک ہفتے کے لیے معطل کرکے طلبہ کو آن لائن کلاسز پر منتقل کردیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب پر حوثی ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات مسلسل سامنے آ رہی ہیں۔
تاہم سعودی حکام نے اسکولوں کو آن لائن منتقل کرنے کی براہ راست وجہ عوامی طور پر واضح نہیں کی۔ اس لیے حوثی حملوں کو اس فیصلے کی حتمی وجہ قرار دینے کے بجائے موجودہ سکیورٹی صورتحال کے ساتھ اس کے زمانی تعلق کو بیان کرنا زیادہ درست ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!