Wednesday, September 30, 2026
FB
تازہ ترین

پاک بحریہ نے کے ٹو ایئرویز طیارے کے بلیک باکس کا ممکنہ مقام تلاش کرلیا

پاک بحریہ نے کے ٹو ایئرویز طیارے کے بلیک باکس کا ممکنہ مقام تلاش کرلیا

پاک بحریہ نے کے ٹو ایئرویز طیارے کے بلیک باکس کا ممکنہ مقام تلاش کرلیا

پاک بحریہ نے کے ٹو ایئرویز طیارے کے بلیک باکس کا ممکنہ مقام تلاش کرلیا

پاک بحریہ نے جولائی 2026 میں بحیرۂ عرب میں حادثے کا شکار ہونے والے کے ٹو ایئرویز کے کارگو طیارے کے بلیک باکس کے ممکنہ مقام کی نشاندہی کرلی ہے۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق بلیک باکس تقریباً 3 ہزار 200 میٹر کی سمندری گہرائی میں موجود ہونے کی نشاندہی ہوئی ہے۔

یہ پیش رفت طیارہ حادثے کی وجوہات جاننے کی تحقیقات میں اہم مرحلہ سمجھی جا رہی ہے، تاہم بلیک باکس کی حتمی برآمدگی اور اس کے ڈیٹا کے تجزیے کے بعد ہی حادثے سے متعلق مزید معلومات سامنے آسکیں گی۔

بلیک باکس کا سراغ کیسے لگایا گیا؟

ترجمان پاک بحریہ کے مطابق زیرِ آب طیارے کے ملبے اور بلیک باکس کی تلاش کے لیے گزشتہ دو ماہ سے وسیع پیمانے پر آپریشن جاری تھا۔

اس دوران نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹیفک کمیشن، یعنی نیسکام، کے تیار کردہ خصوصی آلات کی مدد سے بلیک باکس کے مقام کی نشاندہی کی گئی۔ پاک بحریہ کے مطابق انتہائی گہرے سمندر میں بلیک باکس کے مقام کا سراغ لگانے کے لیے یہ آپریشن غیر معمولی مشکل اور پیچیدہ حالات میں جاری رکھا گیا۔

پاک بحریہ نے بلیک باکس کے ممکنہ مقام سے متعلق تمام دستیاب معلومات بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن کو فراہم کردی ہیں۔

طیارہ حادثہ کب پیش آیا؟

کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737-400 کارگو طیارہ 7 جولائی 2026 کو شارجہ سے کراچی آتے ہوئے بحیرۂ عرب میں حادثے کا شکار ہوا تھا۔

پاکستان کے بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن کے ریکارڈ کے مطابق حادثہ کراچی سے تقریباً 155 میل مغرب میں بحیرۂ عرب میں پیش آیا۔ حادثے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

حادثے سے قبل طیارے کے عملے کی جانب سے نیوی گیشنل سسٹم میں خرابی کی اطلاع دی گئی تھی، جس کے بعد طیارے سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ بعد ازاں پاکستان نیوی اور دیگر متعلقہ اداروں نے سمندر میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

طیارے کا ملبہ بھی تلاش کیا گیا

حادثے کے بعد پاکستان نیوی اور دیگر اداروں کی تلاش کے نتیجے میں طیارے کا ملبہ سمندر سے تلاش کیا گیا تھا۔ ابتدائی تلاش کے دوران ملبہ کراچی کے جنوب مغرب میں اورماڑہ کے قریب سمندری علاقے سے ملا تھا۔

رائٹرز کے مطابق حادثے کے مقام پر سمندر کی گہرائی تقریباً 3 ہزار میٹر تک تھی، جس کے باعث طیارے کے اہم حصوں اور فلائٹ ریکارڈرز تک پہنچنا ایک انتہائی مشکل کام تھا۔

بلیک باکس کیوں اہم ہے؟

عام طور پر طیارے کا بلیک باکس حادثے سے پہلے اور دورانِ پرواز ہونے والے واقعات کی تحقیقات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں موجود فلائٹ ریکارڈنگ اور دیگر متعلقہ معلومات سے تفتیش کاروں کو طیارے کی پرواز، تکنیکی صورتحال اور عملے کے ساتھ ہونے والی گفتگو سے متعلق شواہد مل سکتے ہیں، اگر متعلقہ ریکارڈرز قابلِ بازیافت حالت میں ہوں۔

کے ٹو ایئرویز حادثے میں بلیک باکس کی برآمدگی سے تحقیقاتی حکام کو حادثے کے آخری مراحل کو سمجھنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ تاہم اس مرحلے پر حادثے کی حتمی وجہ کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

بلیک باکس کی تلاش میں بڑی پیش رفت

پاک بحریہ کی جانب سے 3 ہزار 200 میٹر کی گہرائی میں بلیک باکس کے ممکنہ مقام کی نشاندہی اس سرچ آپریشن میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ ترجمان کے مطابق انتہائی گہرائی میں اس مقام کی نشاندہی اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن ہے۔

اب اگلا اہم مرحلہ بلیک باکس تک رسائی، اسے سمندر سے نکالنے اور محفوظ طریقے سے تحقیقاتی حکام تک پہنچانے کا ہوگا۔ اس کے بعد متعلقہ ماہرین ریکارڈ شدہ معلومات کا جائزہ لے سکیں گے۔

تحقیقات کس ادارے کے پاس ہیں؟

بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن پاکستان نے کے ٹو ایئرویز کی پرواز کے حادثے کو اپنی تحقیقات میں شامل کر رکھا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق حادثہ K2 Airways کی پرواز KTA-1732، روٹ شارجہ سے کراچی، بوئنگ 737-400، رجسٹریشن AP-BOI سے متعلق ہے۔

پاک بحریہ کی جانب سے بلیک باکس کے ممکنہ مقام کی معلومات تحقیقاتی ادارے کو فراہم کیے جانے کے بعد اب اس پیش رفت کو حادثے کی جاری تحقیقات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

حتمی وجہ کا تعین تحقیقات کے بعد ہوگا

اگر بلیک باکس کامیابی سے برآمد ہوجاتا ہے اور اس میں موجود ڈیٹا قابلِ استعمال حالت میں ملتا ہے تو تحقیقاتی حکام کو حادثے سے پہلے طیارے کی صورتحال کے بارے میں مزید شواہد مل سکتے ہیں۔

تاہم کسی تکنیکی خرابی، انسانی غلطی یا کسی دوسرے ممکنہ سبب کو حادثے کی حتمی وجہ قرار دینا تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے سے پہلے درست نہیں ہوگا۔

نتیجہ

پاک بحریہ کی جانب سے کے ٹو ایئرویز کے طیارے کے بلیک باکس کے ممکنہ مقام کی نشاندہی حادثے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہے۔ تقریباً 3 ہزار 200 میٹر کی گہرائی میں موجود ممکنہ مقام کا سراغ خصوصی آلات کی مدد سے لگایا گیا ہے اور اس بارے میں معلومات بیورو آف ایئر سیفٹی انویسٹی گیشن کو فراہم کردی گئی ہیں۔ اب بلیک باکس کی عملی برآمدگی اور اس کے ڈیٹا کے تجزیے سے حادثے کے بارے میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!