Friday, September 25, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان میں ہواوے کا قومی سطح کا ٹیلی کام آلات مرمت مرکز قائم، سالانہ 10 ہزار ماڈیولز کی گنجائش

اسلام آباد میں ہواوے کے پہلے قومی سطح کے سپیئر پارٹس ریپئر سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا، جہاں ٹیلی کام آلات کی مقامی سطح پر مرمت، جانچ اور دیکھ بھال کی جائے گی۔ مرکز سالانہ 10 ہزار سے زائد ماڈیولز پروسیس کرنے، 180 سے زیادہ اقسام کے آلات کو سپورٹ کرنے اور ہر سال 6 ہزار سے زائد مرمت شدہ پرزے دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں ہواوے کا قومی سطح کا ٹیلی کام آلات مرمت مرکز قائم، سالانہ 10 ہزار ماڈیولز کی گنجائش

پاکستان کے ٹیلی کام شعبے میں مقامی تکنیکی صلاحیت بڑھانے کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسلام آباد میں ہواوے کے پہلے قومی سطح کے سپیئر پارٹس ریپئر سینٹر کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔ مرکز کا مقصد ملک بھر میں نصب ہواوے کے ٹیلی کام آلات کی مقامی سطح پر مرمت، جانچ، خرابیوں کی تشخیص اور دیکھ بھال کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے 24 ستمبر 2026 کو مرکز کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر ہواوے پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایتھن سن بھی موجود تھے۔

سالانہ 10 ہزار سے زائد ماڈیولز پروسیس کرنے کی صلاحیت

حکام کے مطابق اسلام آباد میں قائم نئے مرکز میں سالانہ 10 ہزار سے زائد ٹیلی کام ماڈیولز پروسیس کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ مرکز میں اوسطاً تقریباً 60 فیصد کامیابی کی شرح کے ساتھ ہر سال 6 ہزار سے زائد مرمت شدہ اجزا دوبارہ استعمال کے قابل بنائے جا سکتے ہیں۔

یہ صلاحیت ٹیلی کام کمپنیوں اور نیٹ ورک انفراسٹرکچر کے لیے اس لحاظ سے اہم ہے کہ خراب آلات کو بیرون ملک بھیجنے کے بجائے مقامی سطح پر ان کی تشخیص اور مرمت ممکن ہوگی۔

مقامی مرمت کی سہولت سے آلات کو دوبارہ نیٹ ورک میں شامل کرنے کا وقت کم ہونے اور نئے پرزوں کی ضرورت میں کمی آنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

180 سے زائد اقسام کے آلات کی مرمت

ریپئر سینٹر میں 16 خصوصی مرمت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں۔ یہ مرکز وائرلیس، مائیکرو ویو، ڈیجیٹل پاور اور ایکسیس نیٹ ورک ٹیکنالوجیز سے متعلق 180 سے زائد آلات کے آئٹم کوڈز کو سپورٹ کرتا ہے۔

مرکز میں خرابیوں کی نشاندہی اور آلات کی جانچ کے لیے ہواوے کے خصوصی تشخیصی پلیٹ فارمز استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے ذریعے تکنیکی ماہرین خراب ماڈیول کی جانچ کرکے مسئلے کی نوعیت کا تعین اور ضروری مرمت کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔

بیرون ملک مرمت پر انحصار کم کرنے کی کوشش

پاکستان میں ٹیلی کام آلات کی مقامی سطح پر مرمت کی سہولت قائم ہونے سے بیرون ملک مرمت کے لیے آلات بھیجنے کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔ اس سے مرمت کے عمل میں لگنے والے وقت اور متعلقہ اخراجات کو کم کرنے میں بھی مدد ملنے کی توقع ہے۔

وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے مرکز کے افتتاح کے موقع پر کہا کہ مقامی سطح پر ٹیلی کام آلات کی مرمت سے قیمتی زرمبادلہ کی بچت میں مدد ملے گی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر نے بتایا کہ مقامی مرمت سے پہلے ہی ایک ملین ڈالر کی بچت ہو چکی ہے۔

پاکستانی ماہرین کو جدید تربیت

مرکز میں 10 سے زائد مقامی ہارڈویئر ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سرکاری معلومات کے مطابق ان ماہرین کو ہواوے کی مینٹیننس کا 12 سال سے زائد تجربہ حاصل ہے اور انہیں کمپنی کے چین میں واقع ہیڈکوارٹرز سے اعلیٰ سطح کی تربیت بھی دی گئی ہے۔

اس تربیتی نظام کا ایک مقصد پاکستان میں ٹیلی کام ہارڈویئر کی مرمت اور تکنیکی دیکھ بھال سے متعلق مقامی مہارت کو فروغ دینا ہے۔

اس سے مقامی افرادی قوت کے لیے جدید ٹیلی کام ٹیکنالوجی کے ساتھ کام کرنے اور عملی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

نیٹ ورک کی بحالی میں مدد

ٹیلی کام نیٹ ورک میں کسی بڑے فنی مسئلے یا ہنگامی صورتحال کے دوران خراب آلات کی فوری بحالی اہم ہوتی ہے۔ مقامی ریپئر سینٹر کی موجودگی سے ایسے آلات کی تشخیص اور مرمت پاکستان میں ہی کی جا سکے گی۔

سرکاری معلومات کے مطابق مرکز کی مقامی صلاحیت قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی حالات میں نیٹ ورک کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مددگار ہو سکتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی خرابی کی صورت میں آلات کو بیرون ملک مرمت کے لیے بھیجنے اور واپس منگوانے کے طویل عمل پر مکمل انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔

ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے لیے کیا اہمیت ہے؟

پاکستان میں موبائل اور ڈیجیٹل خدمات کا انحصار مضبوط ٹیلی کام انفراسٹرکچر پر ہے۔ موبائل نیٹ ورک، ڈیٹا سروسز، کاروباری مواصلات اور مختلف ڈیجیٹل سہولیات کے لیے نیٹ ورک آلات کی مسلسل دستیابی اور بروقت دیکھ بھال ضروری ہے۔

مقامی ریپئر سینٹر اسی ضرورت کے تناظر میں ٹیلی کام ہارڈویئر کی مرمت کے لیے ایک مقامی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس سے خراب آلات کو نسبتاً کم وقت میں دوبارہ استعمال کے قابل بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

مرکز کی موجودہ صلاحیت بنیادی طور پر ہواوے کے ٹیلی کام آلات کے لیے ہے، جبکہ مستقبل میں اس کے دائرہ کار میں توسیع سے متعلق مزید معلومات متعلقہ حکام اور کمپنی کی جانب سے سامنے آ سکتی ہیں۔

پاکستان کو ٹیکنالوجی کا صارف نہیں بلکہ ماہر بنانے پر زور

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے ہنرمند اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ افرادی قوت تیار کرنے پر زور دیا۔

وزارتِ آئی ٹی کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی کے صرف صارف کے طور پر نہیں بلکہ ڈیجیٹل حل تیار کرنے، تعمیر کرنے اور برآمد کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔

ریپئر سینٹر کو اسی وسیع تر حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ اس کی مرمت اور تکنیکی مہارت کو بھی مقامی سطح پر فروغ دینے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

ہواوے کی پاکستان میں تکنیکی شراکت

وزارتِ آئی ٹی کے مطابق ہواوے پاکستان میں ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبے میں طویل عرصے سے کام کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کمپنی کی جانب سے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار میں اضافے کے اقدامات کو سراہا۔

وزارت کے مطابق ہواوے پاکستان کے ساتھ ہنرمندی اور تربیت کے شعبے میں بھی کام کر رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ کمپنی کی تربیتی سرگرمیوں کے تحت متعدد جامعات میں ہواوے اکیڈمیز بھی کام کر رہی ہیں۔

خطے میں خدمات کی توسیع کا امکان

وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ مرکز کی صلاحیت اور دائرہ کار مستقبل میں مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ہواوے کی عالمی موجودگی کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں یہ سہولت پاکستان کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی خدمات فراہم کرنے کے قابل ہو سکتی ہے۔

تاہم اس حوالے سے موجودہ مرکز کی علاقائی سطح پر خدمات کی حتمی تفصیلات یا باقاعدہ توسیعی منصوبہ ابھی سامنے نہیں آیا، اس لیے اسے فی الحال ایک امکان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

صارفین کے لیے ممکنہ اثرات

ٹیلی کام آلات کی مقامی مرمت کا بنیادی اثر نیٹ ورک آپریٹرز کی تکنیکی بحالی کے عمل پر پڑ سکتا ہے۔ اگر خراب آلات کم وقت میں مرمت ہو کر دوبارہ استعمال میں آ جائیں تو نیٹ ورک کی دیکھ بھال کے دوران تاخیر کم ہونے کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ مقامی تکنیکی ماہرین اور مرمت کی سہولت دستیاب ہونے سے بیرون ملک مرمت کے لیے آلات بھیجنے پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مرمت کے اخراجات اور بیرون ملک سے متعلق لاجسٹک تقاضوں میں کمی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

نتیجہ

اسلام آباد میں ہواوے کے پہلے قومی سطح کے سپیئر پارٹس ریپئر سینٹر کا قیام پاکستان کے ٹیلی کام ہارڈویئر کی مقامی مرمت اور تکنیکی صلاحیت بڑھانے کی ایک اہم پیش رفت ہے۔ مرکز سالانہ 10 ہزار سے زائد ماڈیولز پروسیس کرنے، 180 سے زیادہ آلات کے آئٹم کوڈز کو سپورٹ کرنے اور 6 ہزار سے زائد مرمت شدہ پرزوں کو دوبارہ قابلِ استعمال بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مرکز سے بیرون ملک مرمت پر انحصار کم کرنے، تکنیکی ماہرین کی مقامی صلاحیت بڑھانے اور ٹیلی کام نیٹ ورک کی بحالی کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اس منصوبے کی آئندہ اہمیت اس کی موجودہ صلاحیت کے مؤثر استعمال اور مستقبل میں ممکنہ توسیع سے واضح ہوگی۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!