Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

پنجاب میں AI اور 6 ڈیٹا سینٹرز کے بڑے منصوبے

پنجاب میں AI، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے بڑے منصوبوں پر پیش رفت، نواز شریف آئی ٹی سٹی میں 6 ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر غور کیا گیا۔

پنجاب میں AI اور 6 ڈیٹا سینٹرز کے بڑے منصوبے

پنجاب میں AI اور ڈیٹا سینٹرز کے بڑے منصوبے، 6 ڈیٹا سینٹرز کے قیام پر پیش رفت

لاہور: پنجاب حکومت نے مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بڑے منصوبوں پر پیش رفت کرتے ہوئے صوبے کو ٹیکنالوجی کا مرکز بنانے کی حکمت عملی تیز کردی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی چین میں چینی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں پنجاب میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور اسمارٹ عوامی خدمات کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔ ملاقات میں نواز شریف آئی ٹی سٹی میں 6 ڈیٹا سینٹرز کے قیام، جن میں ایک خودمختار یا Sovereign Data Centre بھی شامل ہوگا، کے منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔

نواز شریف آئی ٹی سٹی میں 6 ڈیٹا سینٹرز کا منصوبہ

پنجاب حکومت اور ہواوے کے درمیان ہونے والی ملاقات میں نواز شریف آئی ٹی سٹی میں 6 ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کی تجویز زیر بحث آئی۔

ان میں ایک Sovereign Data Centre بھی شامل ہوگا، جس کا مقصد حساس اور اہم ڈیجیٹل ڈیٹا کے لیے مقامی اور محفوظ انفراسٹرکچر کو فروغ دینا ہے۔

ڈیٹا سینٹرز جدید ڈیجیٹل معیشت کے بنیادی ڈھانچے کا اہم حصہ سمجھے جاتے ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر ڈیٹا محفوظ کرنے، پروسیسنگ اور کلاؤڈ سروسز کی سہولت فراہم کی جاسکتی ہے۔

پنجاب میں AI کو حکومتی نظام کا حصہ بنانے کا منصوبہ

پنجاب حکومت مصنوعی ذہانت کو صرف ٹیکنالوجی کے شعبے تک محدود رکھنے کے بجائے حکومتی امور اور عوامی خدمات میں بھی استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

حکام کے مطابق AI کو صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، ٹریفک مینجمنٹ، زراعت اور شہری انتظام سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔

پنجاب حکومت نے مصنوعی ذہانت سے متعلق ایک خصوصی دفتر بھی قائم کیا ہے، جس کا مقصد حکومتی فیصلوں میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھانا، عوامی خدمات کو تیز کرنا اور نظام میں شفافیت پیدا کرنا ہے۔

1,000 نوجوانوں کو AI کی تربیت دی جائے گی

ہواوے کے ساتھ تعاون کے تحت پنجاب کے 1,000 نوجوانوں کو Huawei Master Trainers کے طور پر تربیت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ 300 خواتین ٹرینرز کو بھی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں خصوصی تربیت فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں نوجوانوں کی مہارت بڑھانا پنجاب کی ڈیجیٹل حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ اس اقدام سے نوجوانوں کو مستقبل کی ٹیکنالوجی سے متعلق روزگار اور کاروباری مواقع حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

پنجاب ڈیٹا لیک اور OneMap بھی منصوبے کا حصہ

وزیراعلیٰ پنجاب نے چین میں ہونے والی ایک ٹیکنالوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب Data Lake کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

حکومت کے مطابق OneMap کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں سے حاصل ہونے والے جغرافیائی ڈیٹا کو ایک مربوط نظام میں شامل کیا جارہا ہے۔ اس نظام میں 31 محکموں سے حاصل ہونے والے 12 ٹیرا بائٹس سے زیادہ جغرافیائی ڈیٹا اور 6 ہزار سے زائد ڈیٹا سیٹس شامل کیے جارہے ہیں۔

حکومت کا خیال ہے کہ مربوط ڈیٹا نظام سے شہری منصوبہ بندی، زمین سے متعلق معاملات، وسائل کی بہتر تقسیم اور عوامی خدمات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔

Sovereign Cloud بنانے پر بھی توجہ

پنجاب حکومت اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں Sovereign Cloud کے تصور کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔

اس کا بنیادی مقصد حکومتی ڈیٹا اور ڈیجیٹل سروسز کے لیے محفوظ اور مقامی کلاؤڈ انفراسٹرکچر تیار کرنا ہے۔ حکومت کے مطابق AI، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا اسٹوریج کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر مضبوط ڈیجیٹل بنیاد مستقبل کی معیشت کے لیے اہم ہوگی۔

AI Delivery Unit بنانے کی تجویز

ہواوے کے ساتھ ملاقات میں پنجاب میں Artificial Intelligence Delivery Unit کے قیام کی تجویز بھی زیر غور آئی۔

اس یونٹ کے ذریعے مختلف سرکاری اداروں میں AI کے منصوبوں کو مربوط کرنے اور ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کو تیز کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

حکومت کے مطابق AI کو حکمرانی کے نظام میں شامل کرنے سے فیصلوں کے معیار، شفافیت اور عوامی خدمات کی رفتار بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

صحت، تعلیم اور ٹریفک میں AI کا استعمال

پنجاب حکومت پہلے ہی مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کو بڑھانے کی کوشش کررہی ہے۔

سرکاری حکام کے مطابق AI کو صحت، تعلیم، ٹریفک اور سیف سٹیز سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کیا جارہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے بہتر فیصلے کرنے اور شہری مسائل کے حل میں مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

پنجاب کو جنوبی ایشیا میں AI سے مربوط صوبہ بنانے کا ہدف

حکومتی حکام کے مطابق پنجاب کا ہدف 2029 تک صوبے میں AI سے منسلک اور مربوط نظام کو مزید وسعت دینا ہے۔

اس مقصد کے لیے AI تعلیم، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، مقامی AI ماڈلز اور نوجوانوں کی تربیت پر توجہ دی جارہی ہے۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ پنجاب کی بڑی نوجوان آبادی ٹیکنالوجی کے شعبے میں معاشی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم اثاثہ ثابت ہوسکتی ہے۔

چینی کمپنیوں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت

وزیراعلیٰ پنجاب نے چین میں چینی ٹیکنالوجی کمپنیوں، سرمایہ کاروں اور انفراسٹرکچر کمپنیوں کو پنجاب میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب صرف ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا صوبہ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کی تخلیق، جدت اور ڈیجیٹل معیشت میں شراکت دار بننا چاہتا ہے۔

توانائی، کمپیوٹنگ، کلاؤڈ، کنیکٹیویٹی اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو پنجاب کے مستقبل کے لیے اہم قرار دیا جارہا ہے۔

پنجاب میں ڈیجیٹل معیشت کے لیے نئی راہ

AI، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل گورننس کے منصوبے پنجاب کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے اہم قرار دیے جارہے ہیں۔

اگر یہ منصوبے طے شدہ حکمت عملی کے مطابق آگے بڑھتے ہیں تو پنجاب میں جدید ڈیٹا انفراسٹرکچر، ٹیکنالوجی کی تربیت، AI پر مبنی عوامی خدمات اور آئی ٹی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔

پنجاب حکومت کی جانب سے ہواوے سمیت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کو بھی اسی وسیع ڈیجیٹل تبدیلی کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔

حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب حکومت مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا انفراسٹرکچر کو مستقبل کی حکمرانی، معیشت اور عوامی خدمات کا اہم حصہ بنانے کی سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!