پنجاب میں اے آئی کے ذریعے متعدد بیماریوں کی تشخیص کا منصوبہ
لاہور: پنجاب حکومت نے صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت (AI) سے استفادہ کرتے ہوئے متعدد بیماریوں کی ابتدائی تشخیص اور اسکریننگ کے لیے جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں اے آئی سے چلنے والے ملٹی ڈیزیز اسکینر کے پائلٹ منصوبے کی تیاری کی ہدایت کردی ہے۔
یہ پیش رفت وزیراعلیٰ پنجاب کے دورہ چین کے دوران چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے حکام سے ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی، جس میں مصنوعی ذہانت کو صحت سمیت مختلف سرکاری شعبوں میں استعمال کرنے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اے آئی اسکینر ایک وقت میں کئی بیماریوں کی نشاندہی کرسکے گا
حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو جس جدید نظام کے بارے میں بریفنگ دی گئی، وہ نان کنٹراسٹ سی ٹی ٹیکنالوجی پر مبنی اے آئی ملٹی ڈیزیز اسکریننگ سلوشن ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق یہ نظام تقریباً دو منٹ کے اندر متعدد بیماریوں کی اسکریننگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ممکنہ طور پر ایک ہی اسکین کے ذریعے 10 تک بیماریوں کی نشاندہی میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی صرف بیماری کی ابتدائی نشاندہی تک محدود نہیں ہوگی بلکہ طبی ماہرین کو اسکریننگ، تشخیص، علاج کی منصوبہ بندی اور مریض کے بعد کے طبی انتظام میں بھی معاونت فراہم کرسکتی ہے۔
کن بیماریوں کی تشخیص میں مدد مل سکتی ہے؟
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اے آئی پر مبنی اس نظام سے مختلف سنگین بیماریوں کی ابتدائی اسکریننگ اور تشخیص میں مدد مل سکتی ہے۔
ان بیماریوں میں لبلبے، جگر، معدے، غذائی نالی اور بڑی آنت کے کینسر سمیت مختلف اقسام کے کینسر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ نظام دل کے امراض کے خطرات کا جائزہ لینے، جسم میں پٹھوں اور چربی کی مقدار کا تجزیہ کرنے اور بعض دیگر طبی مسائل کی نشاندہی میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ ٹیکنالوجی آسٹیوپوروسس اور فیٹی لیور جیسے مسائل کی تشخیص میں بھی اضافی طبی معلومات فراہم کرسکتی ہے۔
ڈاکٹرز کی جگہ نہیں لے گی اے آئی ٹیکنالوجی
صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا بنیادی مقصد ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کی جگہ لینا نہیں بلکہ انہیں اضافی معلومات اور فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
مجوزہ اسکیننگ سسٹم بھی روایتی طبی تشخیصی طریقوں کا متبادل نہیں ہوگا بلکہ ڈاکٹرز کو بیماریوں کی ابتدائی شناخت میں مدد دینے کے لیے ایک اضافی ٹول کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی ممکنہ بیماری کی بروقت نشاندہی ہونے سے مریض کو مزید طبی معائنے اور علاج کے لیے جلد متعلقہ ماہر کے پاس بھیجنے میں مدد مل سکتی ہے۔
پنجاب میں پہلے پائلٹ منصوبہ شروع ہوگا
وزیراعلیٰ مریم نواز نے متعلقہ محکمہ صحت کے حکام کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے پائلٹ منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اس مرحلے کے بعد ٹیکنالوجی کی کارکردگی، افادیت اور صحت کے نظام میں اس کے عملی استعمال کا جائزہ لیا جائے گا۔
حکومت پنجاب کے مطابق جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا مقصد عوام کو بہتر اور زیادہ قابل رسائی طبی سہولیات فراہم کرنا، بیماریوں کی جلد شناخت کو بہتر بنانا اور تشخیص کے عمل کو تیز کرنا ہے۔
صحت کے شعبے میں اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی جانب اہم قدم
پاکستان میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کا رجحان پہلے ہی بڑھ رہا ہے۔ مختلف اداروں میں اے آئی کی مدد سے میڈیکل امیجنگ، مریضوں کے ڈیٹا کے تجزیے اور بیماریوں کی ابتدائی نشاندہی جیسے کاموں پر توجہ دی جارہی ہے۔
پنجاب میں ملٹی ڈیزیز اسکینر کا مجوزہ منصوبہ بھی اسی سلسلے کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے جدید تشخیصی سہولیات کو عام شہریوں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے بیماریوں کی ابتدائی اسکریننگ بہتر ہونے اور مریضوں کو بروقت طبی رہنمائی فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم اس منصوبے کی اصل افادیت کا اندازہ پائلٹ مرحلے کے دوران ٹیکنالوجی کی کارکردگی، طبی ماہرین کے تجربے اور مریضوں کے لیے اس کے عملی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی کیا جاسکے گا۔
پنجاب حکومت کی جانب سے پائلٹ منصوبے کی تیاری کے بعد یہ واضح ہوگا کہ اے آئی اسکینر کو صوبے کے کن علاقوں اور کن طبی مراکز میں پہلے مرحلے میں استعمال کیا جائے گا۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!