پاکستان کی افغانستان میں 10 مقامات پر کارروائی
پاکستان نے افغانستان کے اندر 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق یہ کارروائی افغانستان سے پاکستان کی جانب آنے والے ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے 24 ستمبر کو بتایا کہ پاکستان نے افغانستان میں ایسے 10 مقامات کو نشانہ بنایا جہاں، پاکستانی مؤقف کے مطابق، ڈرونز لانچ اور ذخیرہ کیے جا رہے تھے۔ ان کے بقول کارروائی کو پاکستان کے دفاعی حق کے تحت انجام دیا گیا اور اسے مخصوص فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا۔
آٹھ ڈرونز مار گرائے جانے کا پاکستانی دعویٰ
اس سے ایک روز قبل پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان سے آنے والے آٹھ ڈرونز کو پاکستانی فضائی حدود میں مار گرایا گیا۔
ذرائع کے مطابق چار ڈرونز طورخم کے قریب جبکہ مزید چار کوہاٹ کے نزدیک گرائے گئے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کو اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی روک دیا۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق یہ واقعہ ملک کی فضائی حدود اور سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ معاملہ تھا، جس کے بعد افغانستان کے اندر متعلقہ مقامات کے خلاف کارروائی کی گئی۔
پاکستان کا مؤقف کیا ہے؟
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق افغانستان میں کی جانے والی کارروائی کا مقصد ایسے فوجی اہداف کو نشانہ بنانا تھا جنہیں پاکستان نے حالیہ ڈرون کارروائیوں سے براہ راست منسلک قرار دیا۔
پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ کارروائی محدود، مخصوص اور متناسب نوعیت کی تھی اور اس میں ایسے اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف ڈرون حملوں کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔
پاکستان طویل عرصے سے افغانستان میں موجود مسلح گروہوں کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کو روکنے کا مطالبہ کرتا ہے۔
افغان طالبان کا مؤقف
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 23 ستمبر کو افغانستان کی جانب سے پاکستان پر ڈرون حملے کیے جانے کی تردید کی تھی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تازہ پاکستانی کارروائی کے بعد کابل کی جانب سے فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔ دونوں جانب سے سامنے آنے والے بعض دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔
یہ اختلاف اس معاملے کو مزید حساس بنا دیتا ہے، کیونکہ پاکستان ان کارروائیوں کو اپنی سرحدی سلامتی کے دفاع سے جوڑ رہا ہے جبکہ افغان حکام ماضی میں پاکستانی فضائی حملوں پر اعتراض کرتے رہے ہیں۔
حالیہ کشیدگی کا پس منظر
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔
پاکستانی حکومت نے اس کارروائی میں کم از کم 28 عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا، جبکہ افغان حکام نے تین شہریوں کی ہلاکت اور چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے بھی تین شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔
اس کارروائی کے بعد افغان طالبان کے ترجمان نے پاکستان کے خلاف مناسب جواب دینے کی بات کی تھی، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی مزید نمایاں ہوئی۔
تازہ کارروائی سے صورتحال مزید حساس
افغانستان میں 10 مقامات کو نشانہ بنانے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی سرحدی حملوں اور مسلح گروہوں کے معاملے پر شدید اختلافات موجود ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حالیہ کشیدگی کے دوران چین، ترکی، قطر اور سعودی عرب کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن کے لیے ثالثی کی کوششیں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں کہ تازہ کارروائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کس سمت جائے گی۔ اس حوالے سے مزید سرکاری بیانات اور زمینی صورتحال اہم ہوگی۔
پاکستان اور افغانستان کے لیے اہم سوالات
تازہ واقعات کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا دونوں ممالک کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے سفارتی رابطوں کو ترجیح دیتے ہیں یا سرحدی اور فوجی کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کارروائی کا حق رکھتا ہے، جبکہ افغان طالبان ماضی میں پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر کارروائیوں کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
دونوں ممالک کے درمیان سرحدی امن کے لیے مسلح گروہوں کی سرگرمیوں، سرحد پار حملوں اور ایک دوسرے کے خلاف الزامات کے معاملے پر قابلِ تصدیق معلومات اور مؤثر رابطہ بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
نتیجہ
پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر فضائی اور ڈرون کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے اسے افغانستان سے مبینہ ڈرون حملوں کے جواب میں دفاعی اقدام قرار دیا ہے۔ پاکستان کے مطابق ان مقامات کا تعلق ڈرون لانچ اور ذخیرہ کرنے سے تھا، جبکہ افغانستان کی جانب سے پاکستان کے الزامات کی تردید کی جا چکی ہے۔
تازہ واقعات سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ آئندہ صورتحال کا انحصار دونوں جانب کے سرکاری اقدامات، سرحدی حالات اور سفارتی رابطوں پر ہوگا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق تازہ ترین دعووں کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ابھی ممکن نہیں ہوئی۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!