پاکستان نے افغانستان سے ڈرونز کی مبینہ دراندازی کے بعد جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغانستان میں 10 مقامات کو فضائی اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق کارروائی ان مقامات کے خلاف کی گئی جہاں ڈرونز لانچ اور ذخیرہ کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کی سرزمین اور شہریوں کو درپیش سکیورٹی خطرات کے تناظر میں کی گئی۔
پاکستانی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے 24 ستمبر کو بتایا کہ افغانستان سے لانچ کیے گئے ڈرونز نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے ان ڈرونز کا سراغ لگا کر انہیں تباہ کر دیا۔ ان کے مطابق اس کے بعد پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات پر کارروائی کی۔
پاکستان کا مؤقف کیا ہے؟
پاکستانی حکومت کے مطابق افغانستان سے آنے والے ڈرونز کی کارروائی ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی تھی۔ وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کے تحت افغانستان میں ایسے 10 مقامات کو نشانہ بنایا جو ڈرونز کی لانچنگ اور اسٹوریج سے منسلک تھے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ کارروائی مخصوص فوجی اہداف تک محدود رکھی گئی اور ان مقامات کو نشانہ بنایا گیا جنہیں حالیہ ڈرون کارروائیوں سے براہ راست منسلک قرار دیا گیا۔ پاکستانی حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کو قبول نہیں کرے گی۔
پاکستانی حکام کے مطابق یہ معاملہ صرف حالیہ ڈرون واقعے تک محدود نہیں بلکہ اسلام آباد طویل عرصے سے افغان سرزمین پر موجود مبینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کے بارے میں کابل کو اپنے تحفظات سے آگاہ کرتا رہا ہے۔
کتنے مقامات کو نشانہ بنایا گیا؟
پاکستانی حکومت کے مطابق کارروائی افغانستان کے 10 مقامات پر کی گئی۔ سرکاری بیان میں ان مقامات کو ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے سے منسلک قرار دیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام نے کارروائی کو محدود اور مخصوص فوجی اہداف کے خلاف قرار دیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائی افغانستان کے مختلف علاقوں میں ہوئی۔ افغان حکام نے کنڑ سمیت بعض علاقوں میں پہلے بھی پاکستانی کارروائیوں کے بارے میں مختلف دعوے کیے ہیں، جبکہ موجودہ کارروائی کے حوالے سے افغان حکام نے قندھار، پکتیا اور خوست کا ذکر کیا ہے۔
افغان حکام کا مؤقف
افغان طالبان حکومت نے پاکستان کی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغان حکام کے مطابق پاکستانی فضائی حملوں میں شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق کارروائی میں چار شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔ افغان حکام نے پاکستان کے اس مؤقف سے بھی اختلاف کیا ہے کہ افغانستان سے طالبان حکومت کی جانب سے ڈرونز پاکستان میں بھیجے گئے تھے۔
افغان حکام نے پاکستانی کارروائی کے جواب میں مناسب ردعمل کا عندیہ بھی دیا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔
ڈرون واقعے سے پہلے کیا ہوا؟
تازہ کشیدگی سے ایک روز قبل پاکستان نے افغانستان سے آنے والے متعدد ڈرونز کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران روکنے کا دعویٰ کیا تھا۔
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ آٹھ ڈرونز کو پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے چار کو طورخم کے قریب جبکہ دیگر کو کوہاٹ کے نزدیک پہاڑی علاقوں میں گرایا گیا۔
پاکستانی حکومت نے اس واقعے کو افغانستان سے ہونے والی مبینہ ڈرون دراندازی قرار دیا اور اسے ملکی خودمختاری کے خلاف کارروائی قرار دیتے ہوئے جوابی اقدام کا اعلان کیا۔
پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں کئی عرصے سے سکیورٹی مسائل نمایاں رہے ہیں۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف عسکری کارروائیوں میں ملوث گروہوں کو سہولت یا پناہ ملتی ہے۔
افغان طالبان حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے اور پاکستان میں ہونے والے حملوں کو افغانستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتی ہے۔ اس اختلاف نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور سکیورٹی تناؤ کو برقرار رکھا ہے۔
حالیہ دنوں میں سرحدی کشیدگی کے ساتھ ساتھ افغانستان میں پاکستانی فضائی کارروائیوں اور پاکستان میں سرحد پار سے ہونے والی مبینہ کارروائیوں کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
حالیہ فضائی کارروائیوں کا پس منظر
21 ستمبر کو پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں فضائی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ پاکستانی حکام نے اس کارروائی میں 28 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ افغان حکام اور اقوام متحدہ کے مطابق اس کارروائی میں تین شہری بھی مارے گئے تھے۔
رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے افغانستان مشن نے ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچی کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ اس واقعے کے بعد افغانستان نے پاکستانی کارروائی کی مذمت کی تھی۔
اس کے بعد ڈرون واقعہ اور 10 افغان مقامات پر تازہ کارروائی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
دونوں ممالک کے بیانات میں اختلاف
موجودہ صورتحال میں پاکستان اور افغانستان کے مؤقف میں بنیادی اختلاف ڈرونز کے ماخذ، اہداف اور کارروائی کے نتائج سے متعلق ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل ہوئے اور ان کے خلاف دفاعی کارروائی کے بعد ان سے منسلک لانچنگ اور اسٹوریج مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت نے پاکستان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے اور پاکستانی فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں اور جوابی مؤقف کی تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ہر مقام پر ممکن نہیں ہو سکی۔
خطے کے لیے کیا اہمیت ہے؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات سرحدی علاقوں، تجارت، آمدورفت اور علاقائی سفارتی کوششوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین، ترکیہ، قطر اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے کوششیں کرتے رہے ہیں۔ تازہ فوجی کارروائیوں سے ان سفارتی کوششوں کے لیے ماحول مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے سرحدی سکیورٹی ایک اہم معاملہ ہے، جبکہ افغانستان کے لیے پاکستانی فضائی کارروائیاں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے سوال سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں فوجی اقدامات کے ساتھ سفارتی رابطے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے سکیورٹی پہلو
پاکستانی حکام مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ملک میں دہشت گرد حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر سرحد پار سے حملوں کا خطرہ موجود رہا تو پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے دفاع کے لیے اقدامات کرے گا۔
تازہ کارروائی کے حوالے سے وزیر اطلاعات نے بھی کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا، تاہم ساتھ ہی پاکستان نے علاقائی امن، مذاکرات اور تعمیری روابط کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔
آئندہ صورتحال کس طرف جا سکتی ہے؟
موجودہ صورتحال میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کرتے ہیں۔ اگر سرحدی حملوں، ڈرون کارروائیوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو دونوں ملکوں کے درمیان سکیورٹی اور سفارتی تعلقات مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے واقعات کی تحقیقات، سرحدی نگرانی اور ایک دوسرے کے تحفظات دور کرنے کی کوششیں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اس مرحلے پر آئندہ پیش رفت کے بارے میں حتمی اندازہ لگانے کے بجائے پاکستان اور افغانستان کے سرکاری بیانات، زمینی صورتحال اور قابل اعتماد آزاد ذرائع سے آنے والی اطلاعات کو دیکھنا زیادہ اہم ہوگا۔
نتیجہ
پاکستان نے افغانستان میں ڈرون لانچنگ اور ذخیرہ کرنے سے منسلک 10 مقامات کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کارروائی کو افغانستان سے ہونے والی مبینہ ڈرون دراندازی کا جواب قرار دیا ہے۔ افغانستان نے اس مؤقف سے اختلاف کیا اور پاکستانی کارروائی میں شہری ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے۔
صورتحال میں دونوں جانب کے دعوے موجود ہیں، اس لیے ہر تفصیل کو حتمی اور غیر متنازع حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔ تاہم یہ واضح ہے کہ حالیہ واقعات نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے موجود سکیورٹی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ آئندہ دنوں میں سرحدی صورتحال، سفارتی رابطوں اور دونوں حکومتوں کے اگلے اقدامات اس بحران کی سمت متعین کرنے میں اہم ہوں گے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!