Saturday, October 03, 2026
FB
تازہ ترین

یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں تیز، 1540 ہلاکتوں اور زخمیوں کا دعویٰ

یمن کی سرکاری فوج نے حوثیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ فوج کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 474 کارروائیوں کے دوران حوثیوں کے 1540 ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں تیز، 1540 ہلاکتوں اور زخمیوں کا دعویٰ

یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز

یمن میں حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی میں ایک بار پھر شدت آگئی ہے۔ یمنی فوج نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران حوثیوں کے خلاف 474 فوجی کارروائیوں کا دعویٰ کیا ہے، جن میں فضائی حملوں، ڈرونز، توپ خانے، میزائلوں اور راکٹ لانچرز کا استعمال کیا گیا۔

یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق کارروائیاں ملک کے مختلف محاذوں پر کی گئیں، جن میں تعز کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا۔ فوج کا دعویٰ ہے کہ ان کارروائیوں میں حوثیوں کے 1540 ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تاہم ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

تعز میں کارروائیوں پر خصوصی توجہ

یمنی فوج کے مطابق گزشتہ روز صرف تعز صوبے میں حوثیوں کے ٹھکانوں، نقل و حرکت، جنگجوؤں اور فوجی سازوسامان کے خلاف 20 فضائی حملے کیے گئے۔

رائٹرز کے مطابق یمنی حکومت کی فوج نے تعز میں تین گھنٹے کے دوران حوثیوں کے اہلکاروں، گاڑیوں، نقل و حرکت اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنانے کا بتایا ہے۔ تعز کی جغرافیائی حیثیت اسے یمن کے جاری تنازع میں خاص اہمیت دیتی ہے۔

فوجی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کا مقصد حوثیوں کی پیش قدمی روکنا اور ان کی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

سینکڑوں ہلاکتوں کا دعویٰ

یمنی فوج کے تازہ دعوے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کارروائیوں کے نتیجے میں 1540 حوثی ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے۔

فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ زیادہ تر ہلاکتیں اور زخمی تعز کے محاذوں پر ہوئے۔ ان کے مطابق 216 فوجی گاڑیوں اور دیگر عسکری اثاثوں کو بھی تباہ یا نقصان پہنچایا گیا۔

یہ اعداد و شمار یمنی فوج کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ جنگی حالات میں فریقین کی جانب سے جاری کردہ ہلاکتوں اور نقصانات کے اعداد و شمار میں اختلاف سامنے آ سکتا ہے، اس لیے انہیں متعلقہ فریق کے دعوے کے طور پر ہی رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

کارروائیاں کئی محاذوں تک پھیل گئیں

یمنی فوج کے مطابق حوثیوں کے خلاف کارروائیاں صرف تعز تک محدود نہیں رہیں بلکہ جنوبی حرض اور ساحلی علاقوں سے لے کر کتاف، الجوف، مأرب، البیضاء، لحج، صنعاء اور صعدہ تک مختلف محاذوں پر کی گئیں۔

فوج کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں، کمک، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز اور دیگر فوجی صلاحیتوں کو نشانہ بنایا گیا۔

اس سے قبل بھی یمنی وزارت دفاع نے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کے اعداد و شمار جاری کیے تھے۔ 29 ستمبر کو فوج نے 356 کارروائیوں میں 476 حوثی ارکان کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ اس دعوے پر بھی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں تھی۔

تنازع میں دوبارہ شدت کیوں آئی؟

یمن میں کئی برس کی شدید لڑائی کے بعد 2022 میں اقوام متحدہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں بڑے پیمانے کی لڑائی میں نمایاں کمی آئی تھی، تاہم رواں سال صورتحال دوبارہ خراب ہوئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق حالیہ لڑائی کو 2022 کی جنگ بندی کے بعد یمن میں سب سے نمایاں فوجی کشیدگی میں شمار کیا جا رہا ہے۔ تازہ جھڑپوں کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور صورتحال نے بحیرہ احمر اور باب المندب کی سمندری گزرگاہ کی سلامتی کے حوالے سے بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔

سعودی عرب بھی حوثیوں کے خلاف کارروائی کی تیاری میں

یمن میں جاری کشیدگی کے ساتھ سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

رائٹرز نے علاقائی اور مغربی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف ایک نئی کارروائی کے مختلف منصوبوں پر غور کر رہا ہے، جس کا مقصد باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کارروائی میں یمنی زمینی فورسز کو سعودی فضائی مدد حاصل ہو سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکا سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس معاونت فراہم کر رہا ہے، جبکہ بعض دیگر ممالک کی مدد بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کی ہے۔

حوثیوں کا بھی جوابی مؤقف

دوسری جانب حوثیوں نے سعودی کارروائیوں کے حوالے سے اپنے دعوے کیے ہیں۔ ڈان نے اے ایف پی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ حوثیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سعودی فورسز کی جانب سے اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں میں 94 حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں پر سعودی حملوں کی مجموعی تعداد 1350 تک پہنچ گئی ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق بھی دستیاب نہیں ہے۔

اس طرح موجودہ صورتحال میں دونوں جانب سے فوجی کارروائیوں اور نقصانات کے بارے میں مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

بحیرہ احمر اور باب المندب کی اہمیت

یمن میں بڑھتی ہوئی لڑائی کا اثر صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہ سکتا کیونکہ ملک بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب واقع ہے۔

باب المندب عالمی بحری تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے۔ اس علاقے میں کشیدگی بڑھنے سے تجارتی جہاز رانی، علاقائی سلامتی اور مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق موجودہ لڑائی سے بحیرہ احمر کی جہاز رانی اور باب المندب کی صورتحال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے بھی صورتحال اہم

یمن میں جاری کشیدگی پاکستان کے لیے بھی علاقائی اور معاشی اعتبار سے اہم ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب سے گزرنے والی عالمی تجارت میں خلل کی صورت میں شپنگ روٹس، مال برداری کے اخراجات اور درآمدی اشیا کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات اور خطے میں موجود پاکستانی شہریوں کی سلامتی بھی اہم پہلو ہیں۔ تاہم ان معاملات پر کسی حتمی اثر کا اندازہ موجودہ فوجی صورتحال کے مزید واضح ہونے کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔

نتیجہ

یمن میں حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں نمایاں تیزی کی اطلاعات ہیں۔ یمنی فوج نے 474 کارروائیوں کے دوران 1540 حوثیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ رائٹرز نے تعز میں 20 فضائی حملوں کی بھی رپورٹ دی ہے۔ تاہم ہلاکتوں کے اعداد و شمار سمیت فریقین کے متعدد دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اس لیے موجودہ صورتحال کو جاری فوجی کشیدگی اور متضاد دعووں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!