صومالیہ میں قزاقوں کے قبضے سے ٹینکر بازیاب
صومالیہ کے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ میں سکیورٹی فورسز نے کئی ماہ سے قزاقوں کے قبضے میں موجود تیل بردار ٹینکر ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرا لیا ہے، تاہم کارروائی سے پہلے یا اس کے دوران عملے کے پانچ ارکان کی ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
پنٹ لینڈ حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین پاکستانی، ایک بھارتی اور ایک میانماری شہری شامل ہیں، جبکہ چار دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
3 پاکستانی شہری بھی جاں بحق
حکام اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے پانچ افراد میں تین پاکستانی شہری شامل ہیں۔ اس واقعے سے پاکستان میں مغوی پاکستانی ملاحوں کے خاندانوں میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ٹینکر پر مجموعی طور پر 17 افراد کا عملہ موجود تھا، جن میں 10 پاکستانی شہری شامل تھے۔ ٹینکر کو اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔
پنٹ لینڈ فورسز کا آپریشن
پنٹ لینڈ کی میری ٹائم پولیس فورس نے ٹینکر کو قزاقوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے کارروائی کی۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جہاز کا کنٹرول سنبھال لیا جبکہ متعدد مشتبہ قزاقوں کو گرفتار کیا گیا۔
رائٹرز کے مطابق پنٹ لینڈ کی وزارت اطلاعات نے بتایا کہ پانچ مغوی عملے کے ارکان کو سکیورٹی فورسز کے آپریشن سے قبل قزاقوں نے قتل کیا تھا۔ اس کے بعد فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے جہاز کو بازیاب کرایا۔
ہلاکتوں کے بارے میں مختلف تفصیلات
واقعے کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس میں ہلاکتوں کے وقت اور حالات کے بارے میں کچھ اختلاف موجود ہے۔
پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس کے مطابق پانچ افراد کو سکیورٹی آپریشن شروع ہونے سے پہلے قتل کیا گیا، جبکہ بعض پاکستانی ذرائع نے زندہ بچ جانے والے عملے اور متعلقہ فلاحی ادارے کی معلومات کی بنیاد پر مختلف صورتحال رپورٹ کی ہے۔
اس لیے ہلاکتوں کے درست وقت اور مکمل حالات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
ایم ٹی آنر 25 کب ہائی جیک ہوا؟
ایم ٹی آنر 25 کو 21 اپریل 2026 کو صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ کے قریب قزاقوں نے اغوا کیا تھا۔ اس وقت جہاز پر 17 افراد کا عملہ موجود تھا، جن میں 10 پاکستانی شہری شامل تھے۔
رائٹرز کے مطابق جہاز کو صومالیہ کے ساحل سے تقریباً 30 بحری میل دور قبضے میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں کئی ماہ تک پاکستانی ملاح قزاقوں کی حراست میں رہے۔
پاکستانی حکومت کی کوششیں
پاکستانی حکومت نے اس معاملے پر صومالی حکام اور دیگر متعلقہ اداروں سے رابطہ رکھا۔ اگست 2026 میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے متعلقہ اداروں کو پاکستانی یرغمالیوں کی محفوظ اور جلد رہائی کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی تھی۔
وزارت خارجہ کے مطابق حکومت نے صومالی حکام اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھنے پر زور دیا تھا۔
دیگر ملاح بھی زخمی
پنٹ لینڈ حکام کے مطابق واقعے میں چار دیگر عملے کے ارکان زخمی ہوئے، جن میں تین پاکستانی اور ایک بھارتی شہری شامل ہیں۔
ٹینکر کو سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں لے لیا گیا ہے جبکہ قزاقی کے شبہ میں گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ بعض دیگر مشتبہ افراد کے فرار ہونے اور ان کی تلاش جاری رہنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
صومالیہ میں قزاقی کی واپسی
صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں بحری قزاقی کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اپریل 2026 کے بعد صومالیہ کے ساحل کے قریب متعدد حملے رپورٹ ہوئے ہیں۔
ماضی میں بھی 2008 سے 2014 کے دوران صومالی قزاقی نے عالمی بحری تجارت کے لیے بڑا مسئلہ پیدا کیا تھا، تاہم بعد میں بین الاقوامی بحری نگرانی اور دیگر اقدامات کے باعث ان واقعات میں نمایاں کمی آئی تھی۔
پاکستانی خاندانوں کے لیے بڑا صدمہ
ایم ٹی آنر 25 پر موجود پاکستانی ملاحوں کے خاندان کئی ماہ سے اپنے عزیزوں کی محفوظ واپسی کے منتظر تھے۔ مئی میں پاکستانی خاندانوں نے کراچی میں احتجاج کرکے حکومت سے مغوی ملاحوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
اب تین پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق نے ان خاندانوں کے لیے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ باقی پاکستانی ملاحوں کی حالت اور انہیں وطن واپس لانے کے انتظامات سے متعلق مزید سرکاری معلومات کا انتظار ہے۔
نتیجہ
صومالیہ کے علاقے پنٹ لینڈ میں قزاقوں کے قبضے سے ایم ٹی آنر 25 ٹینکر بازیاب کرا لیا گیا ہے، تاہم اس کارروائی سے جڑے واقعے میں تین پاکستانیوں سمیت پانچ عملے کے ارکان جاں بحق ہوئے۔ پنٹ لینڈ حکام نے ہلاکتوں کا ذمہ دار قزاقوں کو قرار دیا ہے، جبکہ مختلف رپورٹس میں ہلاکتوں کے درست وقت اور حالات سے متعلق اختلاف موجود ہے۔
پاکستانی حکام کی جانب سے باقی پاکستانی شہریوں کی صورتحال اور میتوں کی وطن واپسی کے لیے اقدامات کیے جانے کی توقع ہے۔ واقعہ صومالیہ کے ساحلی علاقوں میں دوبارہ بڑھتی بحری قزاقی کے خطرے کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!