Friday, October 02, 2026
FB
تازہ ترین

امریکا کے مزید 9 ہزار فوجی مشرق وسطیٰ روانہ

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی بڑھانے کے لیے تقریباً 9 ہزار مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان میں 7 ہزار سے زائد سیلرز اور 2 ہزار میرینز شامل ہیں، جبکہ تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا بھی خطے کی جانب روانہ کیا گیا ہے۔

امریکا کے مزید 9 ہزار فوجی مشرق وسطیٰ روانہ

امریکا کے مزید فوجی مشرق وسطیٰ روانہ

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید بڑھانا شروع کردی ہے۔ امریکی فوج تقریباً 9 ہزار اضافی اہلکاروں کو بحری جہازوں کے ذریعے خطے کی جانب بھیج رہی ہے، جبکہ ایک تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا بھی مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کیا گیا ہے۔

یہ پیش رفت ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئی تعیناتی میں 7 ہزار سے زائد سیلرز اور تقریباً 2 ہزار میرینز شامل ہیں۔

تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا بھی روانہ

رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ بھی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ دیگر جنگی بحری جہاز بھی شامل ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اس تعیناتی کے نتیجے میں اکتوبر کے اختتام تک خطے میں امریکا کے تین طیارہ بردار بحری بیڑے موجود ہوسکتے ہیں۔

اس وقت یو ایس ایس جارج ایچ ڈبلیو بش اور یو ایس ایس جارج واشنگٹن بھی خطے میں موجود ہیں۔

میرینز بھی خطے کی جانب روانہ

امریکی بحری نقل و حرکت میں یو ایس ایس میکِن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ بھی شامل ہے، جس میں 13ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے اہلکار موجود ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اس گروپ میں ہزاروں میرینز شامل ہیں اور یہ بھی مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران اہم پیش رفت

امریکی فوجی تعیناتی ایسے وقت میں بڑھائی جارہی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان کو رد نہیں کیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے متعلق بعض الزامات کی تصدیق ہوئی تو امریکا سخت ردعمل دے سکتا ہے، جبکہ نئی فوجی تعیناتی خطے میں امریکی فوجی صلاحیت بڑھانے کا باعث بن رہی ہے۔

سعودی عرب اور قطر میں دفاعی اقدامات

امریکی فوج نے سعودی عرب اور قطر میں توانائی کے اہم مراکز کے تحفظ کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں بھی تعینات کی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایک بیٹری سعودی عرب میں تیل کی اہم تنصیب اور دوسری قطر میں قدرتی گیس کے ایک مرکز کے تحفظ کے لیے بھیجی گئی ہے۔ یہ اقدام ایران کے ساتھ ممکنہ مزید کشیدگی کے خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

خطے میں امریکی فوجی موجودگی

امریکی فوج پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں بڑی تعداد میں اہلکار، جنگی طیارے اور بحری اثاثے تعینات کیے ہوئے ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق خطے میں امریکی فوجیوں کی تعداد تقریباً 50 ہزار بتائی گئی ہے، جبکہ نئی بحری تعیناتی سے امریکی فوجی موجودگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

تاہم نئی تعیناتی کے تمام اہلکار مستقل طور پر خطے میں رہیں گے یا کچھ موجودہ فورسز کی جگہ لیں گے، اس بارے میں صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔

عراق سے فوجی انخلا کے بعد نئی تعیناتی

امریکا نے حال ہی میں عراق میں موجود اپنی باقی ماندہ فوجی موجودگی کو بھی منتقل کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق عراق سے منتقل ہونے والی فورسز کا مشن اردن سے جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق عراق سے تقریباً 1,500 امریکی اور اتحادی اہلکاروں سے متعلق مشن کی منتقلی مکمل ہوئی، جبکہ انسداد داعش کارروائیوں کے لیے امریکی توجہ اردن منتقل کی گئی ہے۔

اس کے باوجود خطے کے دوسرے حصوں میں امریکی بحری اور فوجی موجودگی میں اضافے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔

عالمی اور علاقائی اثرات

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے کو خطے کی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں اہم سمجھا جارہا ہے۔ نئی تعیناتی میں طیارہ بردار بحری بیڑے، جنگی جہاز، میرینز اور دیگر فوجی وسائل شامل ہیں۔

امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافے کی خبروں کا عالمی توانائی منڈی پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی فوجی نقل و حرکت اور خطے میں کشیدگی کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

مزید فوجی تعیناتی کا امکان

امریکی حکام کے مطابق نئی تعیناتی کے بعد مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری موجودگی غیر معمولی سطح تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ تمام نئے بحری بیڑے ایک ہی وقت میں خطے میں کتنے عرصے تک موجود رہیں گے۔

کچھ امریکی حکام نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ بعض نئے آنے والے بحری جہاز خطے میں پہلے سے موجود فورسز کو بعد میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

پاکستان کے لیے اہمیت

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں پاکستان کے لیے بھی اہم ہیں کیونکہ پاکستان خطے کے قریب واقع ہے اور خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے گہرے معاشی، تجارتی اور افرادی روابط ہیں۔

خطے میں کسی بڑے فوجی تصادم کی صورت میں تیل کی قیمتوں، فضائی اور بحری تجارت اور پاکستانی شہریوں کے سفر سمیت مختلف شعبوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ان ممکنہ اثرات کی شدت کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔

نتیجہ

امریکا نے مشرق وسطیٰ میں تقریباً 9 ہزار مزید فوجی بھیجنے شروع کردیے ہیں، جن میں ہزاروں سیلرز اور میرینز شامل ہیں۔ یو ایس ایس تھیوڈور روزویلٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور یو ایس ایس میکِن آئی لینڈ ایمفی بیئس ریڈی نیس گروپ بھی خطے کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔

یہ پیش رفت ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور خطے میں ممکنہ مزید فوجی کارروائی کے خدشات کے دوران سامنے آئی ہے۔ امریکا نے سعودی عرب اور قطر میں اہم توانائی تنصیبات کے تحفظ کے لیے اضافی پیٹریاٹ میزائل بیٹریاں بھی تعینات کی ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!