پاکستان اور برطانیہ کے درمیان نیا سفارتی مکالمہ، باقاعدہ مذاکراتی نظام قائم کرنے پر اتفاق
اسلام آباد/لندن: پاکستان اور برطانیہ نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت کے لیے وزارتِ خارجہ کی سطح پر باقاعدہ اور منظم سفارتی مکالمے کا نیا طریقہ کار قائم کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔
یہ اتفاق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے درمیان لندن میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات میں ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کے مختلف پہلوؤں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان باقاعدہ سفارتی مکالمہ
مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وزارتِ خارجہ کی سطح پر ایک منظم مذاکراتی نظام قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے دوطرفہ تعاون کے مختلف شعبوں کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جاسکے گا۔
نئے مکالمے کا مقصد پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنا اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔
حکام کے مطابق اس طریقہ کار کے تحت مختلف شعبوں میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا جائے گا تاکہ باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر گفتگو
اسحاق ڈار اور ایڈ ملی بینڈ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کے وسیع تر معاملات زیر بحث آئے۔
دونوں جانب سے تجارت، سرمایہ کاری، سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی مفادات کے شعبوں میں عملی تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔
تجارت اور سرمایہ کاری پر بھی توجہ
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینا بھی حالیہ سفارتی رابطوں کا اہم حصہ ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے دورہ برطانیہ کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر متفق ہیں۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ برطانیہ کے ساتھ مضبوط سیاسی تعلقات کو معاشی تعاون، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔
علاقائی صورتحال بھی مذاکرات کا اہم حصہ
مذاکرات میں صرف دوطرفہ معاملات ہی زیر بحث نہیں آئے بلکہ مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افغانستان سمیت اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے خطے میں امن، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے کی جانے والی سفارتی کوششوں سے برطانوی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے خطے میں مذاکرات، سفارت کاری اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار اور سہولت کاری کی کوششوں کو سراہا۔
افغانستان سے دہشت گردی کا معاملہ بھی اٹھایا گیا
ملاقات کے دوران افغانستان سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی خدشات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔
اسحاق ڈار نے پاکستان کو افغانستان سے مبینہ طور پر لاحق دہشت گردی کے خطرات پر برطانوی حکام کو آگاہ کیا۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گرد کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
دونوں ممالک نے علاقائی امن و استحکام کے لیے مسلسل رابطے اور تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
سندھ طاس معاہدہ بھی زیر بحث
مذاکرات میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق پاکستان کے تحفظات بھی سامنے آئے۔
اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے بین الاقوامی ذمہ داریوں اور معاہداتی commitments سے متعلق پاکستان کے مؤقف سے برطانوی وزیر خارجہ کو آگاہ کیا اور بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی پاسداری کی اہمیت پر زور دیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جس کی پاسداری خطے میں پانی کے انتظام اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہے۔
انسداد دہشت گردی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے شعبوں میں تعاون بھی اہم موضوع رہا۔
دونوں ممالک نے علاقائی سیکیورٹی صورتحال پر قریبی مشاورت جاری رکھنے اور انسداد دہشت گردی، انٹیلی جنس تعاون اور دیگر باہمی سیکیورٹی معاملات میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت تسلیم کی ہے۔
یہ تعاون دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی رابطوں کو مزید منظم بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
پاکستانی کمیونٹی کا اہم کردار
مذاکرات کے دوران برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
دونوں ممالک نے اس بات کو تسلیم کیا کہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد افراد دونوں ممالک کے درمیان عوامی، ثقافتی، اقتصادی اور سماجی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برطانیہ میں بڑی پاکستانی کمیونٹی دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔
اسحاق ڈار کا دورہ برطانیہ
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 24 سے 28 اگست 2026 تک برطانیہ کا سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔
دورے کے دوران دولت مشترکہ کے سیکریٹری جنرل، برطانوی حکام اور دیگر متعلقہ شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ علاقائی سلامتی، عالمی امور، اقتصادی تعاون اور پاکستان برطانیہ تعلقات سمیت مختلف معاملات پر بات چیت ہوئی۔
پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات میں نئی پیش رفت
نئے سفارتی مکالمے کے قیام کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
باقاعدہ مذاکراتی نظام کے ذریعے دونوں ممالک کو اہم دوطرفہ، علاقائی اور عالمی معاملات پر مستقل رابطے کا موقع ملے گا۔ اس سے باہمی تعاون کے شعبوں میں پیدا ہونے والے مسائل کو بروقت حل کرنے اور نئے مواقع تلاش کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
پاکستانی حکومت کے مطابق برطانیہ کے ساتھ تعلقات کو تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، سیکیورٹی اور سفارت کاری سمیت مختلف شعبوں میں مزید آگے لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پاکستان اور برطانیہ کے درمیان نئے سفارتی مکالمے کا قیام اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک اپنے دیرینہ تعلقات کو مزید منظم اور نتیجہ خیز بنانے کے خواہاں ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس نئے مذاکراتی نظام کے ذریعے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی معاملات پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!