ایران کا دو امریکی اڈوں پر حملہ، امریکا ایران کشیدگی میں نیا اضافہ
تہران: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی جزیرے لارک پر حملے کے جواب میں اردن میں موجود دو امریکی فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق کارروائی میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق فوجی اڈوں کو ہدف بنایا گیا۔ ایران نے اس حملے کو امریکی کارروائی کا جوابی ردعمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف حملہ خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔
ایران نے کن امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا؟
ایرانی حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں اردن کے کنگ حسین اور الازرق اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان دونوں مقامات پر امریکی فوجی اور فضائی اثاثے موجود ہیں۔
پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ میزائل حملوں سے امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا، تاہم ابتدائی اطلاعات میں نقصانات سے متعلق ایران اور اردن کے دعووں میں فرق موجود ہے۔
اردن نے میزائل حملوں پر کیا کہا؟
اردن کی فوج کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں میں سے آٹھ کو فضائی دفاعی نظام نے روک لیا۔ اردنی حکام نے ابتدائی طور پر دونوں امریکی اڈوں پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔
اس صورتحال کے بعد خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کے تحفظ اور فضائی دفاع کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
امریکا نے ایران پر حملہ کیوں کیا؟
ایران کا جوابی حملہ اس وقت ہوا جب امریکی فورسز نے ایران کے جنوبی حصے میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع لارک جزیرے پر دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار ان لانچرز کو آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں نصب کرنے والے راکٹ داغنے کے لیے تیار کر رہے تھے۔ امریکا نے کارروائی کو محدود اور درست فوجی اقدام قرار دیا۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس علاقے میں کسی بھی بڑے فوجی تصادم کے نتیجے میں تیل اور گیس کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
امریکی حملے اور ایران کی جوابی کارروائی کے بعد عالمی مارکیٹ میں بھی تشویش پیدا ہوئی اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ رائٹرز کے مطابق تازہ کشیدگی کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 90 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
امریکا ایران جنگ میں نیا موڑ
ایران کی جانب سے دو امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں کے نسبتاً محدود فوجی تصادم کے بعد دوبارہ براہ راست کارروائیاں شروع ہوئی ہیں۔
تازہ واقعات نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ دوبارہ بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے اور اس کے اثرات اردن، خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز تک پہنچ سکتے ہیں۔
خطے میں مزید حملوں کا خدشہ
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا یا ایران کی جانب سے مزید جوابی کارروائیاں کی گئیں تو تنازع مزید ممالک اور فوجی اڈوں تک پھیل سکتا ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے قریب بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں عالمی تجارت اور توانائی کی قیمتوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
دوسری جانب امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ بھی بڑھایا ہے، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی نئی امریکی کارروائی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تازہ صورتحال نے ایک مرتبہ پھر مشرق وسطیٰ میں جنگ کے پھیلاؤ اور عالمی توانائی کے بحران کے خدشات کو نمایاں کر دیا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!