Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

آبنائے ہرمز میں امریکا ایران کشیدگی بڑھنے کے بعد عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ برینٹ خام تیل 90 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا جبکہ بحری آمدورفت میں کمی نے عالمی سپلائی کے خدشات بڑھا دیے۔

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی تیل کی قیمتوں پر اثر

تہران/سنگاپور: امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈیوں تک پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات نے عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

حالیہ کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکی فورسز نے ایران کے جزیرے لارک پر موجود دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگوں کے ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے کی گئی۔ ایران نے اس کارروائی کے بعد اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کی اطلاع دی۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ دنیا کی توانائی کی ترسیل میں اس آبی راستے کا کردار انتہائی اہم ہے، کیونکہ جنگ سے پہلے عالمی تیل کی تقریباً پانچویں مقدار اسی راستے سے گزرتی تھی۔

اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں کسی بھی بڑی فوجی کشیدگی یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ کا براہ راست اثر عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔

عالمی تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں

تازہ صورتحال کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ پیر کے روز برینٹ خام تیل کے سودے تقریباً 1.23 فیصد اضافے کے ساتھ 89.18 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 1.10 فیصد بڑھ کر 84.32 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔

بعد کی مارکیٹ سرگرمی میں برینٹ کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کی سطح سے بھی اوپر گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار آبنائے ہرمز میں ممکنہ سپلائی رکاوٹ کے خدشات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ

آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی کمپنیوں اور بحری جہازوں کے لیے خطرات میں اضافہ کر دیا ہے۔ شپنگ ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے اختتام پر اس آبی راستے سے گزرنے والے نمایاں کموڈیٹی جہازوں کی تعداد کم ہو کر تقریباً پانچ روزانہ رہ گئی، جو کمپنیوں کی جانب سے سکیورٹی خدشات کے باعث محتاط رویے کی نشاندہی کرتی ہے۔

برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے بھی اطلاع دی کہ ہفتے کے روز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

کشیدگی برقرار رہی تو تیل مزید مہنگا ہوسکتا ہے

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو عالمی تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آسکتا ہے۔

اگر تیل کی ترسیل طویل عرصے تک متاثر رہی تو اس کے اثرات صرف عالمی منڈی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔

عالمی معیشت کے لیے نیا خطرہ

تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ کو بڑھا سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے درآمدی تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

تازہ کشیدگی کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی دباؤ دیکھا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے عالمی معیشت اور افراط زر کے حوالے سے نئے خدشات ظاہر کیے ہیں۔

آبنائے ہرمز پر دنیا کی نظریں

امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی جھڑپوں کے بعد عالمی برادری کی توجہ ایک بار پھر آبنائے ہرمز پر مرکوز ہو گئی ہے۔ اس اہم آبی گزرگاہ میں امن و سلامتی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی مارکیٹ کے استحکام کے لیے بھی ضروری سمجھی جاتی ہے۔

صورتحال میں مزید کشیدگی کی صورت میں تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آنے کا امکان موجود ہے، جبکہ عالمی منڈی اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری تجارت معمول پر کب آتی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!