شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس، پاکستان سمیت عالمی رہنماؤں کی اہم ملاقاتیں
بشکیک: شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کا آغاز کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہوگیا ہے، جس میں پاکستان سمیت رکن ممالک کے اہم رہنما شریک ہیں۔ اجلاس میں علاقائی سلامتی، معاشی تعاون، تجارت، رابطہ کاری اور عالمی و علاقائی صورتحال سمیت مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان کی نمائندگی کے لیے کرغزستان پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے علاوہ تنظیم کے پلس اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کے دورے کے دوران شریک ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
اجلاس میں اہم عالمی رہنماؤں کی شرکت
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں چین کے صدر شی جن پنگ، روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت اہم عالمی رہنما شریک ہیں۔
اجلاس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ دنیا اس وقت مختلف جغرافیائی اور سیاسی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔ عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات، علاقائی سلامتی اور معاشی تعاون جیسے معاملات اجلاس کے اہم موضوعات میں شامل ہیں۔
سربراہ اجلاس کے موقع پر مختلف ممالک کے رہنماؤں کی دوطرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعلقات کے علاوہ عالمی اور علاقائی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی اہم سفارتی ملاقاتیں
وزیراعظم شہباز شریف اجلاس کے موقع پر شریک ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کریں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم کے دورے میں سربراہ اجلاس کے ساتھ ساتھ کرغزستان کی قیادت کے ساتھ دوطرفہ روابط بھی شامل ہیں۔
پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، علاقائی رابطہ کاری، تعلیم اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت متوقع ہے۔ وزیراعظم 2 ستمبر کو کرغزستان کے صدر صدار جپاروف کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات بھی کریں گے۔
پاکستان تنظیم کی چیئرمین شپ سنبھالے گا
شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اجلاس کے اختتام پر پاکستان تنظیم کے کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کی 2026-27 کی گردشی چیئرمین شپ سنبھالے گا۔
پاکستان کی چیئرمین شپ کے دوران تنظیم کی مختلف سرگرمیوں اور اجلاسوں کی میزبانی کی جائے گی۔ اس سلسلے میں 2027 میں اسلام آباد میں سربراہ اجلاس کا انعقاد پاکستان کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والا 2027 کا سربراہ اجلاس پاکستان کی چیئرمین شپ کی نمایاں سرگرمیوں میں شامل ہوگا۔
علاقائی تعاون پر خصوصی توجہ
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم علاقائی پلیٹ فارم ہے، جس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور وسطی ایشیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔ تنظیم کے پلیٹ فارم پر رکن ممالک سکیورٹی، تجارت، معیشت، توانائی اور علاقائی رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
موجودہ عالمی صورتحال کے تناظر میں اجلاس میں علاقائی استحکام اور باہمی تعاون کے معاملات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ چین اور روس کے درمیان بھی اجلاس کے موقع پر اہم رابطے متوقع ہیں، جبکہ دیگر رہنماؤں کی دوطرفہ ملاقاتیں بھی سفارتی توجہ کا مرکز ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم ایک ہی اجلاس میں
وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی ایک ہی بین الاقوامی فورم پر موجودگی کے باعث پاکستان اور بھارت کے تعلقات بھی اجلاس کے دوران خصوصی توجہ کا باعث بن سکتے ہیں۔
تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ 27 اگست تک وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان کسی دوطرفہ ملاقات کے حوالے سے کوئی حتمی معلومات موجود نہیں تھیں۔ دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ اگر ایسی کوئی پیش رفت ہوئی تو اس سے آگاہ کیا جائے گا۔
پاکستان کے لیے اجلاس کیوں اہم ہے؟
پاکستان کے لیے تنظیم کی چیئرمین شپ ایک اہم سفارتی موقع ہے۔ اس دوران پاکستان کو چین، روس، وسطی ایشیا اور دیگر رکن ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سفارتی روابط مزید مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔
پاکستان خصوصاً وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت، توانائی، مواصلاتی رابطوں اور علاقائی کنیکٹیویٹی کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ کرغزستان کے ساتھ وزیراعظم کی ملاقاتیں بھی اسی وسیع تر تعاون کا حصہ ہیں۔
عالمی صورتحال کے تناظر میں اہم اجلاس
شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز کے باعث بڑے علاقائی فورمز کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں بھی کردار ادا کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقاتیں اور سامنے آنے والے فیصلے آنے والے دنوں میں خطے کی سفارتی اور معاشی صورتحال پر اثرانداز ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستان کے لیے نئی چیئرمین شپ علاقائی تعاون میں اپنا کردار مزید بڑھانے کا اہم موقع فراہم کرے گی۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!