آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آئل ٹینکر میں آگ
آبنائے ہرمز: خلیج فارس سے متعلق سمندری کشیدگی کے دوران ایک آئل ٹینکر کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث جہاز کو روکنا پڑا۔ واقعے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں سفر کر رہا تھا کہ وہ دو سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گیا۔ ٹکر کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی اور اسے مکمل طور پر روک دیا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز ایسے سمندری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا جسے ایران کی جانب سے مقررہ ضوابط کے مطابق غیر مجاز قرار دیا گیا تھا۔ تاہم حکام نے ٹینکر کی شناخت، اس کی ملکیت یا اس پر موجود عملے کے بارے میں تفصیلی معلومات جاری نہیں کیں۔
رپورٹ کے مطابق حادثے کے بعد جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی مکمل نوعیت بھی فوری طور پر واضح نہیں ہوسکی۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے مقرر کردہ سمندری گزرگاہوں اور حفاظتی ہدایات کی پابندی کریں۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے دنیا کے مختلف حصوں تک بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات اسی راستے سے منتقل ہوتی ہیں۔ ایسے میں یہاں کسی بڑے حادثے یا سکیورٹی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈی اور تیل کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے اطراف ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں خطے میں فوجی کارروائیوں اور بحری نقل و حرکت سے متعلق متعدد دعوے بھی سامنے آئے ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر اس اہم آبی گزرگاہ کی سکیورٹی پر تشویش بڑھ رہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس سے قبل امریکی فورسز نے ایران کے جزیرے لارک میں پاسداران انقلاب کی بارودی سرنگیں بچھانے والی فورسز کے خلاف محدود کارروائی کا دعویٰ کیا تھا۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں اپنی سکیورٹی پالیسی پر عمل درآمد پر زور دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہونے کی صورت میں نہ صرف خطے کی تجارت بلکہ عالمی تیل کی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
فی الحال آئل ٹینکر سے متعلق جانی نقصان یا بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نقصان کی کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ واقعے کی مزید تفصیلات اور ٹینکر کو پہنچنے والے نقصان سے متعلق معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!