Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

نیپال میں سینکڑوں افراد سرنگوں میں پھنس گئے، جان بچانے کیلئے بڑا ریسکیو آپریشن شروع

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد ہائیڈرو پاور منصوبوں کی زیرِ زمین سرنگوں میں سینکڑوں کارکن پھنسنے کا خدشہ ہے۔ نیپالی فوج، چین اور بھارت کے ماہرین سمیت امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹا کر سرنگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

نیپال میں سینکڑوں افراد سرنگوں میں پھنس گئے، جان بچانے کیلئے بڑا ریسکیو آپریشن شروع

نیپال میں زیرِ زمین سرنگوں میں پھنسے سینکڑوں افراد، ریسکیو آپریشن جاری

کھٹمنڈو: نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد زیرِ زمین ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے سینکڑوں کارکنوں کو بچانے کے لیے غیر معمولی ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں شدید مشکلات کے باوجود ملبے، کیچڑ اور پانی سے بھری سرنگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

26 اگست کو نیپال اور چین کی سرحدی حدود میں آنے والے شدید سیلاب نے متعدد علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ سیلاب اور ملبے نے ہائیڈرو پاور منصوبوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا، جبکہ متعدد سرنگوں کے راستے بند ہوگئے۔

تازہ رپورٹس کے مطابق مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں سے تقریباً 900 کارکنوں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ان میں سے تقریباً 500 افراد کے سرنگوں کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم مختلف مقامات اور رپورٹس کے باعث یہ تعداد مسلسل تبدیل ہو رہی ہے۔

سرنگوں تک پہنچنا بڑا چیلنج

ریسکیو اہلکاروں کو سب سے بڑی مشکل سرنگوں کے داخلی راستوں پر جمع مٹی، پتھروں، کیچڑ اور سیلابی ملبے کی وجہ سے پیش آ رہی ہے۔ کئی مقامات پر سڑکیں اور پل بھی تباہ ہوچکے ہیں، جس کے باعث بھاری مشینری اور امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک پہنچانا انتہائی مشکل ہے۔

ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری، ڈرلنگ آلات، کیمروں اور دیگر خصوصی سامان کی مدد سے سرنگوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بعض مقامات پر سرنگوں میں آکسیجن پہنچانے اور اندر موجود افراد کی صورتحال جاننے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نیپال کے ساتھ چین اور بھارت کے ماہرین بھی آپریشن میں شامل

اس بڑے ریسکیو آپریشن میں نیپالی فوج اور امدادی اداروں کے ساتھ چین اور بھارت کے ماہرین بھی حصہ لے رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہزاروں نیپالی فوجی اور امدادی اہلکار متاثرہ علاقوں میں تعینات ہیں جبکہ غیر ملکی ماہرین پیچیدہ سرنگوں میں پھنسے افراد تک پہنچنے کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

ریسکیو کارروائی کے دوران بعض مقامات پر سرنگوں کے راستے کھولنے کے لیے ملبہ ہٹایا گیا اور ابتدائی مرحلے میں کچھ افراد کو زندہ نکالنے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی تھی، جس سے دیگر لاپتا کارکنوں کے اہل خانہ کی امیدیں برقرار ہیں۔

زندہ بچنے کی امید برقرار

سرنگوں میں پھنسے افراد کے لیے وقت انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ امدادی ماہرین کے مطابق زیرِ زمین موجود افراد کی بقا کا انحصار آکسیجن، صاف پانی، خوراک، سرنگ کے اندر موجود خالی جگہ اور ملبے کی صورتحال پر ہے۔

کئی خاندان اپنے پیاروں کی زندگی کے بارے میں اب بھی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ بعض مقامات پر ریسکیو اہلکاروں کو ابتدائی طور پر مدد کے لیے پکارنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں، تاہم بعد میں رابطہ برقرار رکھنا مشکل ہوگیا۔

ایک جانب ریسکیو ٹیمیں سرنگوں تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں، دوسری جانب مسلسل ملبہ گرنے، پانی، محدود رسائی اور دشوار گزار پہاڑی علاقے کی وجہ سے امدادی کارروائی خطرناک بھی قرار دی جا رہی ہے۔

پورا ملک بڑے انسانی بحران سے دوچار

نیپال میں آنے والے اس تباہ کن سیلاب نے صرف ہائیڈرو پاور منصوبوں کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ یکم ستمبر تک مختلف رپورٹس میں نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کرنے اور ہزاروں افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امدادی سرگرمیاں دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں بھی جاری ہیں، جبکہ حکومت اور بین الاقوامی امدادی ٹیمیں متاثرین تک خوراک، طبی امداد اور دیگر ضروری سامان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سرنگوں میں پھنسے کارکنوں کے لیے جاری آپریشن کو اس وقت نیپال کی سب سے اہم اور مشکل ترین ریسکیو کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ امدادی ٹیمیں امید کر رہی ہیں کہ ملبے کے نیچے موجود مزید افراد تک بروقت رسائی حاصل کرکے انہیں بحفاظت باہر نکالا جاسکے گا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!