روس یوکرین جنگ: ڈرون حملوں میں شدت، فضائی محاذ مزید خطرناک ہوگیا
کیف: روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ڈرون حملوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، دونوں جانب سے ایک دوسرے کے علاقوں اور اہم تنصیبات کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کارروائیاں جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں روس کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت متعدد علاقوں پر طویل دورانیے کے فضائی حملے کیے گئے، جبکہ یوکرین نے بھی روسی سرزمین کے اندر دور تک ڈرون حملوں میں اضافہ کیا ہے۔
کیف پر شدید روسی ڈرون اور میزائل حملے
حالیہ حملوں میں روس نے کیف سمیت یوکرین کے متعدد علاقوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کیف پر حملہ 12 گھنٹے سے زائد جاری رہا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ ریلوے اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یوکرینی حکام کے مطابق روسی حملوں میں ڈرونز کے ساتھ کروز اور بیلسٹک میزائل بھی استعمال کیے گئے۔ حملوں کے دوران شہریوں کو محفوظ مقامات اور زیرِ زمین پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
یوکرین کے روسی علاقوں پر ڈرون حملے
دوسری جانب یوکرین نے روس کے اندر بھی ڈرون کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے۔ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا ہے کہ روسی فضائی حدود میں یوکرینی ڈرونز کی سرگرمی بڑھنے کے باعث وہاں شہری ہوابازی کے لیے خطرات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
یوکرین کی جانب سے روسی توانائی اور صنعتی تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ روسی حکام ماضی کی طرح متعدد ڈرونز کو مار گرانے کے دعوے کر رہے ہیں، تاہم دونوں جانب سے کیے جانے والے تمام دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ممکن نہیں۔
روسی بندرگاہیں اور بنیادی ڈھانچہ بھی نشانے پر
تازہ اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین کے جنوبی بحیرہ اسود کے علاقے میں بندرگاہی انفراسٹرکچر اور رومانیہ سے متصل ایک سرحدی گزرگاہ کو بھی نشانہ بنایا۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملوں میں برآمدی سہولیات کو نقصان پہنچا۔
یہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے استعمال کو مسلسل بڑھا رہے ہیں۔
ڈرون جنگ کا نیا مرحلہ
روس یوکرین جنگ میں ڈرونز اب محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ دونوں فریق انہیں دور دراز علاقوں میں موجود فوجی، صنعتی، توانائی اور لاجسٹک اہداف کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
یوکرین نے روسی تیل تنصیبات اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کے خلاف ڈرون کارروائیوں کو اپنی طویل فاصلے کی جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بنا لیا ہے، جبکہ روس کی جانب سے یوکرین کے شہروں اور بنیادی ڈھانچے پر بڑے پیمانے کے ڈرون حملے جاری ہیں۔
جنگ مزید پھیلنے کا خدشہ
ڈرون حملوں میں اضافے نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو ایک نئے خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے استعمال سے جنگی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے اور شہری علاقوں میں بھی خطرات بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ڈرون حملوں کا موجودہ سلسلہ برقرار رہا تو روس اور یوکرین کے درمیان فضائی محاذ مزید اہمیت اختیار کرسکتا ہے۔ اس صورتحال سے شہری آبادی، توانائی کے نظام، صنعتی تنصیبات اور فضائی سفر کو بھی خطرات لاحق رہنے کا خدشہ ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کے باوجود زمینی اور فضائی محاذ پر حملوں میں کمی کے بجائے شدت دکھائی دے رہی ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!