Wednesday, October 28, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان اور سعودی عرب میں سائبر سکیورٹی تعاون مضبوط، پاکستانی ٹیک اسٹارٹ اپ کو بڑی سرمایہ کاری

پاکستان اور سعودی عرب نے سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے، جبکہ پاکستانی اسٹارٹ اپ ایڈورسٹی نے چار لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرلی۔

پاکستان اور سعودی عرب میں سائبر سکیورٹی تعاون مضبوط، پاکستانی ٹیک اسٹارٹ اپ کو بڑی سرمایہ کاری

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سائبر سکیورٹی تعاون مضبوط، پاکستانی ٹیک اسٹارٹ اپس کو بھی سرمایہ کاری

اسلام آباد: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ٹیکنالوجی اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دونوں ممالک نے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں باہمی تعاون بڑھانے، ماہرین اور تجربات کے تبادلے اور ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقہ کار اپنانے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کی نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔

یہ اہم پیش رفت سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقد ہونے والی عالمی ٹیکنالوجی کانفرنس لیپ دو ہزار چھبیس کے دوران سامنے آئی۔ پاکستان نے اس کانفرنس میں ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان کے نام سے بڑے پیمانے پر شرکت کی، جہاں پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس نے مصنوعی ذہانت، آٹومیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو عالمی سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے سامنے پیش کیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کا سائبر سکیورٹی معاہدہ

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سائبر سکیورٹی تعاون کا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل روابط میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ مفاہمت کی یادداشت کا بنیادی مقصد سائبر سکیورٹی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تجربات، مہارت اور بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کرنا ہے۔

موجودہ دور میں سرکاری اداروں، مالیاتی نظام، کاروباری کمپنیوں، تعلیمی اداروں اور عام شہریوں کا انحصار ڈیجیٹل نظام پر بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی وجہ سے سائبر حملوں، ڈیٹا چوری، آن لائن فراڈ اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے تحفظ دنیا بھر کے ممالک کے لیے اہم ترجیح بن چکا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون سے دونوں ممالک کو نئے اور ابھرتے ہوئے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔ سرکاری بیان کے مطابق معاہدے کے تحت ماہرین اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے پر توجہ دی جائے گی۔

لیپ دو ہزار چھبیس میں پاکستان کی نمایاں شرکت

ریاض میں ہونے والی لیپ دو ہزار چھبیس کانفرنس میں پاکستان نے ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان کے پلیٹ فارم کے تحت نمایاں شرکت کی۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے پاکستانی وفد کی قیادت کی اور کانفرنس کے دوران متعدد اہم ملاقاتیں کیں۔

پاکستانی پویلین میں پچیس اسٹارٹ اپس اور پچاس سے زائد معروف پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے اپنی مصنوعات اور خدمات پیش کیں۔ ان کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت، آٹومیشن اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت مختلف جدید شعبوں میں تیار کیے گئے حل عالمی سطح پر متعارف کرائے۔

پاکستان کی اس شرکت کا مقصد صرف اپنی ٹیکنالوجی مصنوعات کی نمائش کرنا نہیں تھا بلکہ عالمی سطح پر کاروباری شراکت داری، سرمایہ کاری اور نئی مارکیٹوں تک رسائی حاصل کرنا بھی تھا۔ وزارتِ آئی ٹی کے مطابق لیپ دو ہزار چھبیس میں پاکستان کی شرکت نے پاکستانی ٹیکنالوجی شعبے کے لیے عالمی کاروباری روابط کے نئے مواقع پیدا کیے۔

پاکستانی اسٹارٹ اپ کو چار لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری

لیپ دو ہزار چھبیس کے دوران پاکستانی ٹیک اسٹارٹ اپ ایڈورسٹی کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی سامنے آئی۔ سرکاری معلومات کے مطابق ایڈورسٹی نے ریپیڈیو گروپ سے چار لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔

یہ اسٹارٹ اپ وزارتِ آئی ٹی کے تحت اگنائٹ سے معاونت حاصل کرنے والے اداروں میں شامل ہے۔ کمپنی مصنوعی ذہانت پر مبنی تعلیمی پلیٹ فارم پر کام کر رہی ہے اور حاصل ہونے والی سرمایہ کاری کو اپنی بین الاقوامی توسیع اور پلیٹ فارم کو مزید وسعت دینے کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

ٹیکنالوجی کے شعبے میں کسی پاکستانی اسٹارٹ اپ کی جانب سے بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری حاصل کرنا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی ٹیک کمپنیاں عالمی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات اور خدمات کے ذریعے جگہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس پیش رفت سے دیگر پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے بھی یہ پیغام جاتا ہے کہ اگر وہ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور عالمی مارکیٹ کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی مصنوعات تیار کریں تو بین الاقوامی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

آفس فلو اے آئی کی سعودی ٹیکنالوجی کمپنی کے ساتھ شراکت داری

لیپ دو ہزار چھبیس میں پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنی آفس فلو اے آئی نے بھی اہم کاروباری معاہدے کیے۔ سرکاری بیان کے مطابق کمپنی نے دھہران ٹیکنو ویلی کے ساتھ انکیوبیشن پارٹنرشپ ایگریمنٹ پر دستخط کیے۔

اس شراکت داری کا مقصد مصنوعی ذہانت پر مبنی بزنس آٹومیشن پلیٹ فارم کو سعودی عرب اور وسیع تر علاقائی مارکیٹ میں تیار اور وسعت دینا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی مدد سے کاروباری عمل کو خودکار بنانے کا رجحان دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ کمپنیاں ایسے سافٹ ویئر اور پلیٹ فارمز میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جو روزمرہ کے انتظامی کاموں کو خودکار بنانے، وقت بچانے اور کاروباری فیصلوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد دے سکیں۔

آفس فلو اے آئی کی سعودی مارکیٹ میں شراکت داری پاکستانی مصنوعی ذہانت کے شعبے کے لیے اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس سے پاکستانی کمپنی کو خلیجی خطے میں اپنی ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور نئے صارفین تک پہنچنے کا موقع مل سکتا ہے۔

ایم آئی ایس عربیہ کے ساتھ بھی کاروباری معاہدہ

آفس فلو اے آئی نے سعودی ٹیکنالوجی کمپنی ایم آئی ایس عربیہ کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے۔ سرکاری معلومات کے مطابق ایم آئی ایس عربیہ سعودی عرب میں بڑی کمپنیوں کو ٹیکنالوجی خدمات فراہم کرنے والی نمایاں کمپنیوں میں شامل ہے۔

اس نوعیت کے معاہدے پاکستانی ٹیک کمپنیوں کے لیے سعودی عرب کی بڑی کارپوریٹ مارکیٹ میں داخل ہونے کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔ سعودی عرب میں ڈیجیٹل تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور کاروباری آٹومیشن پر بڑھتی ہوئی توجہ کے باعث پاکستانی کمپنیوں کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

پاکستانی کمپنیوں کے لیے خلیجی مارکیٹ میں کاروباری شراکت داری اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے انہیں صرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر تجربہ، نئے صارفین اور بین الاقوامی کاروباری نیٹ ورک حاصل کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

پاکستان کا ٹیکنالوجی شعبہ عالمی مارکیٹ کی طرف بڑھ رہا ہے

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ گزشتہ برسوں کے دوران تیزی سے تبدیل ہوا ہے۔ ملک میں نوجوان ٹیک پروفیشنلز، فری لانسرز، سافٹ ویئر ڈویلپرز، مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور اسٹارٹ اپس کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔

حکومت کی جانب سے بھی ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، فائیو جی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی سرمایہ کاری کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

لیپ دو ہزار چھبیس میں پاکستان کی شرکت اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ تھی جس کے ذریعے پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو عالمی کاروباری مراکز اور سرمایہ کاروں سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کانفرنس میں پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے قانونی، انفراسٹرکچر اور پالیسی سطح پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت پر پاکستان کی توجہ

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون میں مصنوعی ذہانت ایک اہم شعبہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔ پاکستانی پویلین میں بھی متعدد کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن سے متعلق اپنی مصنوعات پیش کیں۔

مصنوعی ذہانت اب صرف تحقیق یا تجربات تک محدود نہیں رہی بلکہ تعلیم، صحت، مالیات، صنعت، کاروبار، سائبر سکیورٹی اور سرکاری خدمات سمیت مختلف شعبوں میں استعمال ہو رہی ہے۔

پاکستان کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر جگہ بنانا اس لیے اہم ہے کہ ملک کے پاس نوجوان انسانی وسائل کا بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ اگر ان نوجوانوں کو جدید تربیت، عالمی معیار کی تعلیم اور کاروباری مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان اپنی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل خدمات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون پاکستانی مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور کمپنیوں کو ایک بڑی علاقائی مارکیٹ تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔

سائبر سکیورٹی کیوں اہم ہو گئی ہے؟

دنیا بھر میں ڈیجیٹل نظام کے پھیلاؤ کے ساتھ سائبر سکیورٹی کی اہمیت بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ سرکاری اداروں، بینکوں، کاروباری کمپنیوں اور عام صارفین کا حساس ڈیٹا اب مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر موجود ہوتا ہے۔

سائبر حملہ آور کسی ادارے کے ڈیٹا کو نقصان پہنچانے، معلومات چوری کرنے، نظام کو بند کرنے یا مالی نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومتیں اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے جدید سائبر سکیورٹی نظام قائم کر رہی ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سائبر سکیورٹی تعاون کا مقصد اسی بدلتی ہوئی صورتحال میں دونوں ممالک کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے۔

ماہرین کے مطابق سائبر سکیورٹی کے شعبے میں صرف جدید ٹیکنالوجی کافی نہیں بلکہ تربیت یافتہ ماہرین، بروقت معلومات کا تبادلہ اور مسلسل تعاون بھی ضروری ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مفاہمت کی یادداشت اس حوالے سے تعاون کے لیے ایک ادارہ جاتی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔

سعودی عرب پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اہم مارکیٹ

سعودی عرب اپنی معیشت کو جدید بنانے اور مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی لانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے سعودی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانے کے مواقع موجود ہیں۔

پاکستانی کمپنیاں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاؤڈ سروسز، فِن ٹیک، ای کامرس، بزنس آٹومیشن اور دیگر شعبوں میں خدمات فراہم کر سکتی ہیں۔

سعودی عرب میں مقامی کمپنیوں اور عالمی ٹیک اداروں کے درمیان شراکت داری میں اضافہ ہو رہا ہے، ایسے میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے اپنی مسابقتی صلاحیت ثابت کرنا ضروری ہوگا۔

پاکستانی اسٹارٹ اپس کو عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے معیاری مصنوعات، مضبوط سائبر سکیورٹی، عالمی قوانین کی پابندی، مؤثر کسٹمر سپورٹ اور جدید ٹیکنالوجی پر مسلسل سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔

آٹھ پاکستانی اسٹارٹ اپس کی ایک اور اہم کامیابی

لیپ دو ہزار چھبیس کے دوران پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے ایک اور اہم پیش رفت بھی سامنے آئی۔ سرکاری بیان کے مطابق آٹھ پاکستانی اسٹارٹ اپس نے آسٹرو لیبز لیپ کے پہلے گروپ سے گریجویشن مکمل کی۔

یہ بارہ ہفتوں پر مشتمل سافٹ لینڈنگ ایکسیلیریٹر پروگرام تھا جسے برج اسٹارٹ پاکستان، اگنائٹ اور آسٹرو لیبز کے اشتراک سے پیش کیا گیا۔

اس پروگرام کا مقصد پاکستانی اسٹارٹ اپس کو سعودی اور علاقائی مارکیٹ کے کاروباری ماحول سے متعارف کرانا اور انہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں داخل ہونے کے لیے تیار کرنا تھا۔

اس طرح کے پروگرام پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے اہم ہیں کیونکہ صرف اچھی ٹیکنالوجی بنانا کافی نہیں ہوتا۔ عالمی مارکیٹ میں کامیابی کے لیے کمپنیوں کو کاروباری ماڈل، سرمایہ کاری، قانونی تقاضوں، مارکیٹنگ اور مقامی صارفین کی ضروریات کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔

پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے لیے ممکنہ فوائد

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتا ہوا ٹیکنالوجی تعاون کئی شعبوں میں فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ سب سے اہم فائدہ پاکستانی ٹیک کمپنیوں کے لیے نئی مارکیٹوں تک رسائی ہے۔

اس کے علاوہ سعودی سرمایہ کار پاکستانی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں، دونوں ممالک کے ماہرین مشترکہ منصوبوں پر کام کر سکتے ہیں اور نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری میں تعاون بڑھ سکتا ہے۔

اگر یہ شراکت داری طویل مدت تک جاری رہتی ہے تو پاکستان کے لیے ٹیکنالوجی برآمدات، روزگار، اسٹارٹ اپ سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل خدمات میں اضافے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔

خصوصاً مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی جیسے شعبوں میں مشترکہ منصوبے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر پاکستان کی ٹیک شناخت

پاکستان کی جانب سے ٹیک ڈیسٹینیشن پاکستان کے تحت لیپ دو ہزار چھبیس میں شرکت کا ایک اہم مقصد ملک کی ٹیکنالوجی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا بھی تھا۔

پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے عالمی کانفرنسوں میں شرکت سے انہیں براہ راست سرمایہ کاروں، کاروباری اداروں اور ممکنہ صارفین سے رابطے کا موقع ملتا ہے۔

اس کے نتیجے میں پاکستانی کمپنیوں کے لیے ایسے معاہدے سامنے آ سکتے ہیں جو ملک میں براہ راست سرمایہ کاری لانے کے ساتھ ساتھ پاکستانی ٹیکنالوجی خدمات کی عالمی مانگ میں بھی اضافہ کریں۔

حکومت کے مطابق لیپ دو ہزار چھبیس میں پاکستان کی شرکت کا مقصد کاروباری شراکت داری، بین الاقوامی سرمایہ کاری اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کو فروغ دینا تھا۔

مستقبل میں تعاون کے امکانات

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کا دائرہ مستقبل میں سائبر سکیورٹی سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، فِن ٹیک، ڈیجیٹل گورننس اور دیگر جدید شعبوں تک پھیل سکتا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اقتصادی اور ٹیکنالوجی روابط کو دیکھتے ہوئے پاکستانی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب ایک اہم علاقائی مارکیٹ بن سکتا ہے۔

پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے انسانی وسائل کو بھی مسلسل جدید تربیت فراہم کرے۔

نتیجہ

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سائبر سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت، پاکستانی اسٹارٹ اپس کی سرمایہ کاری اور سعودی کمپنیوں کے ساتھ کاروباری شراکت داری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعلقات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

لیپ دو ہزار چھبیس میں پاکستان کی نمایاں شرکت نے پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے اپنی صلاحیتیں پیش کرنے کا موقع دیا۔ ایڈورسٹی کی چار لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری اور آفس فلو اے آئی کی سعودی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری اس پیش رفت کی اہم مثالیں ہیں۔

اگر پاکستان اپنی ٹیکنالوجی افرادی قوت، سائبر سکیورٹی صلاحیت، مصنوعی ذہانت اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کو مزید مضبوط بنانے میں کامیاب ہوتا ہے تو سعودی عرب سمیت دیگر عالمی مارکیٹوں میں پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے مزید مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!