شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل لانچ
شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحلی علاقے سے متعدد بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جس کی جنوبی کوریا نے تصدیق کردی ہے۔ جنوبی کوریا کے فوجی حکام کے مطابق میزائل مشرقی سمندر کی جانب داغے گئے اور تقریباً 250 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سمندر میں جا گرے۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ میزائل لانچ کی سرگرمی کی نگرانی جنوبی کوریا اور امریکی انٹیلی جنس حکام نے کی۔ جاپان کے ساتھ بھی متعلقہ معلومات کا تبادلہ کیا گیا۔
میزائل کہاں سے داغے گئے؟
جنوبی کوریا کے مطابق میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحلی علاقے وونسان کے قریب سے داغے گئے۔ وونسان شمالی کوریا کا اہم ساحلی علاقہ ہے اور ماضی میں بھی وہاں سے مختلف میزائل تجربات کیے جا چکے ہیں۔
میزائل مشرقی سمندر کی جانب گئے، جسے جاپان میں بحیرۂ جاپان بھی کہا جاتا ہے۔ جنوبی کوریا کے حکام میزائلوں کی درست قسم، رفتار اور دیگر تکنیکی خصوصیات کا مزید جائزہ لے رہے ہیں۔
تقریباً 250 کلومیٹر تک پرواز
ابتدائی معلومات کے مطابق میزائلوں نے تقریباً 250 کلومیٹر تک پرواز کی۔ جنوبی کوریا کی فوج نے انہیں کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل قرار دیا ہے۔
جنوبی کوریا اور امریکا کی انٹیلی جنس ایجنسیاں شمالی کوریا کی فوجی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں تاکہ مزید ممکنہ میزائل لانچ یا دیگر عسکری سرگرمیوں کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے۔
مشترکہ فوجی مشق کے بعد میزائل لانچ
شمالی کوریا کی جانب سے تازہ میزائل لانچ ایسے وقت میں ہوا جب امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی مشترکہ فوجی مشق حال ہی میں ختم ہوئی تھی۔
تینوں ممالک کی مشترکہ فوجی سرگرمیاں شمالی کوریا کے لیے مسلسل حساس معاملہ رہی ہیں۔ پیانگ یانگ ماضی میں ایسی مشقوں کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔
تازہ میزائل لانچ کو بھی اسی علاقائی فوجی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، تاہم لانچ کے مخصوص مقصد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
جنوبی کوریا کا ردعمل
جنوبی کوریا کی فوج نے شمالی کوریا کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ سیول اور واشنگٹن کے درمیان شمالی کوریا کے میزائل پروگرام سے متعلق انٹیلی جنس تعاون بھی جاری ہے۔
جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی فوج کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
تازہ میزائل لانچ کے بعد جنوبی کوریا کے حکام نے شمالی کوریا کی مزید فوجی سرگرمیوں پر نگرانی بڑھا دی ہے۔
شمالی کوریا کا میزائل پروگرام
شمالی کوریا کئی برس سے بیلسٹک میزائل اور دیگر فوجی صلاحیتوں کو مسلسل ترقی دے رہا ہے۔ پیانگ یانگ کا مؤقف رہا ہے کہ اس کے فوجی پروگرام ملک کے دفاع اور بیرونی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔
دوسری جانب امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام کو علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
اسی اختلاف کے باعث جزیرہ نما کوریا میں فوجی کشیدگی وقتاً فوقتاً بڑھتی رہی ہے۔
امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کا تعاون
شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کے باعث امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کے درمیان دفاعی اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔
تینوں ممالک شمالی کوریا کی میزائل سرگرمیوں کی نگرانی، میزائل دفاع اور مشترکہ فوجی مشقوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
شمالی کوریا ان سرگرمیوں کو اپنی سلامتی کے خلاف دباؤ کے طور پر دیکھتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اکثر میزائل تجربات یا فوجی مشقوں کے ذریعے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
خطے میں کشیدگی کے ممکنہ اثرات
تازہ میزائل لانچ سے جزیرہ نما کوریا میں پہلے سے موجود کشیدگی ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوگئی ہے۔
اگر شمالی کوریا مزید میزائل تجربات جاری رکھتا ہے تو جنوبی کوریا، امریکا اور جاپان کی جانب سے دفاعی تیاریوں اور فوجی نگرانی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
اس صورتحال کا سفارتی اثر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام پر امریکا اور اس کے اتحادی ممالک پہلے ہی سخت مؤقف رکھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے اس خبر کی اہمیت
جزیرہ نما کوریا کی صورتحال پاکستان سے براہ راست منسلک نہیں، تاہم مشرقی ایشیا میں بڑی فوجی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عالمی سطح پر اہمیت رکھتی ہے۔
امریکا، چین، جاپان، روس اور دیگر بڑی طاقتوں کے مفادات مشرقی ایشیا میں موجود ہیں۔ اس لیے کسی بڑے فوجی بحران کی صورت میں عالمی سفارت کاری، تجارت اور معیشت پر بالواسطہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
پاکستان بھی عالمی سفارتی اور معاشی نظام کا حصہ ہونے کی وجہ سے مشرقی ایشیا میں ہونے والی بڑی پیش رفت کو نظر انداز نہیں کرسکتا۔
آئندہ کی صورتحال
تازہ میزائل لانچ کے بعد شمالی کوریا کی مزید فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ جنوبی کوریا اور امریکا ممکنہ طور پر انٹیلی جنس نگرانی جاری رکھیں گے جبکہ جاپان بھی شمالی کوریا کی میزائل سرگرمیوں کو قریب سے مانیٹر کرے گا۔
تاہم موجودہ لانچ کی بنیاد پر کسی بڑی فوجی کارروائی کی پیش گوئی کرنا درست نہیں ہوگا۔ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی فوجی صلاحیت کے اظہار یا علاقائی فوجی سرگرمیوں کے ردعمل کے طور پر بھی کیا جا سکتا ہے۔
نتیجہ
جنوبی کوریا نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے مشرقی ساحل کے قریب سے متعدد کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق میزائل تقریباً 250 کلومیٹر تک پرواز کرنے کے بعد سمندر میں گرے۔
یہ پیش رفت امریکا، جنوبی کوریا اور جاپان کی مشترکہ فوجی سرگرمیوں کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے باعث جزیرہ نما کوریا میں جاری فوجی کشیدگی ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!