Monday, September 21, 2026
FB
تازہ ترین

ریاض پر حوثی میزائل حملہ، امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھنے کا انتباہ

سعودی دارالحکومت ریاض کی جانب حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔ سعودی قیادت میں اتحاد نے میزائل کو روکنے کی تصدیق کی ہے جبکہ امریکا نے خبردار کیا ہے کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی تیزی سے شدت اختیار کر سکتی ہے۔

ریاض پر حوثی میزائل حملہ، امریکا کا مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی تیزی سے بڑھنے کا انتباہ

ریاض پر بیلسٹک میزائل حملہ

سعودی عرب نے تصدیق کی ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جسے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا۔

یہ حالیہ تنازع کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد ریاض کو نشانہ بنانے کی پہلی نمایاں کوشش قرار دی جا رہی ہے۔ حملے کے دوران سعودی دارالحکومت کے بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور ہوائی اڈے کے قریب دھوئیں کے بادل بھی دیکھے گئے۔ سعودی حکام کے مطابق حملے میں فوری طور پر کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکا کا تیزی سے کشیدگی بڑھنے کا انتباہ

امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب اور ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے درمیان جاری لڑائی کے بارے میں خبردار کیا ہے کہ یہ تنازع تیزی سے مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

واشنگٹن نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر امریکی شہریوں کو خطے کے سفر کے حوالے سے محتاط رہنے اور بعض صورتوں میں سفر پر نظرثانی کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ امریکی انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان براہِ راست حملوں کا سلسلہ وسیع ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

حوثیوں کی جانب سے حملے کا دعویٰ

حوثی فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ گروپ نے ریاض سمیت سعودی عرب کے مختلف مقامات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حوثیوں نے سعودی تیل کمپنی آرامکو کی ینبع میں تنصیبات کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

تاہم ان دعوؤں میں سے بعض کی آزادانہ طور پر فوری تصدیق نہیں ہوسکی۔ دوسری جانب سعودی قیادت میں اتحاد نے ریاض کی طرف آنے والے بیلسٹک میزائل کو روکنے اور مغربی سعودی عرب کے بعض دیگر مقامات کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان محاذ وسیع ہونے کا خدشہ

حالیہ حملے نے یمن کی جنگ کو سعودی عرب کے اندر مزید نمایاں کردیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی حالیہ فوجی پیش قدمی اور سعودی کارروائیوں کے نتیجے میں تنازع کے مزید پھیلنے کے خدشات موجود ہیں۔

صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ سعودی عرب خطے میں توانائی کی بڑی برآمدی قوت ہے، جبکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ جاری کشیدگی سے ان راستوں کی سلامتی اور تیل کی ترسیل پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی

ریاض پر حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا اور ان کے اتحادیوں کے درمیان پہلے ہی شدید کشیدگی جاری ہے۔ یمن میں حوثیوں کی سرگرمیوں نے اس وسیع تر علاقائی بحران میں ایک اور محاذ کھول دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی حکام خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سیکیورٹی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ امریکا کی جانب سے شہریوں کے لیے تازہ سفری انتباہ بھی اسی مجموعی صورتحال کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔

صورتحال پر عالمی نظر

ریاض پر میزائل حملے کے بعد عالمی سطح پر اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ سعودی عرب حوثیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں کس حد تک اضافہ کرتا ہے اور حوثیوں کی جانب سے مزید حملوں کا کیا ردعمل سامنے آتا ہے۔

امریکی انتباہ نے بھی اس خدشے کو نمایاں کیا ہے کہ موجودہ لڑائی محدود رہنے کے بجائے مزید علاقوں تک پھیل سکتی ہے۔ تاہم آئندہ صورتحال کا انحصار فریقین کے اگلے اقدامات اور خطے میں جاری سفارتی کوششوں پر ہوگا۔

نتیجہ

ریاض کی جانب حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملے اور اسے سعودی فضائی دفاع کی جانب سے روکنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید نمایاں ہوگئی ہے۔ امریکا نے سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان لڑائی کے تیزی سے بڑھنے کے امکان سے خبردار کیا ہے، جبکہ خطے میں توانائی اور بحری تجارت کے اہم راستوں کی سلامتی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!