جی سیون کا ایران سے مطالبہ
جی سیون کے وزرائے خارجہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں حوثی گروپ کو اسلحہ فراہم کرنے اور اس کی حمایت کا سلسلہ بند کرے۔ یہ مطالبہ 21 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر جی سیون وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں سامنے آیا۔
جی سیون میں برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکا شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ نے حوثیوں کی جانب سے یمن اور سعودی عرب کے خلاف جاری حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات کا اظہار کیا۔
حوثیوں سے حملے روکنے کا مطالبہ
مشترکہ بیان میں جی سیون نے حوثیوں سے فوری طور پر تمام فوجی کارروائیاں اور دھمکیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔ خاص طور پر شہری جہاز رانی کے خلاف حملوں کو روکنے اور سیاسی عمل میں سنجیدگی کے ساتھ واپس آنے پر زور دیا گیا۔
جی سیون وزرائے خارجہ کے مطابق حوثیوں کی سرگرمیاں عالمی تجارت اور بین الاقوامی استحکام کے لیے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف کشیدگی نے سمندری آمدورفت اور علاقائی سلامتی کے معاملات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
ایران اور حوثیوں کا معاملہ
جی سیون کا تازہ مطالبہ ایران کے علاقائی کردار اور حوثیوں کے ساتھ اس کے تعلقات کے حوالے سے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔ جی سیون نے خاص طور پر ایران سے حوثیوں کی اسلحہ فراہمی اور حمایت روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایران اور حوثیوں کے تعلقات کے بارے میں ماضی میں بھی مختلف بین الاقوامی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم ایران حوثیوں پر مکمل کنٹرول رکھنے کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔ ستمبر 2026 میں ایک علاقائی سفارتی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران نے پاکستان کی جانب سے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے روکنے کے لیے اثرورسوخ استعمال کرنے کی درخواست کے جواب میں کہا تھا کہ ایران حوثیوں کو کنٹرول نہیں کرتا۔
عالمی تجارت اور بحری راستوں پر تشویش
حوثیوں کی کارروائیوں کے حوالے سے جی سیون کی تشویش کا ایک اہم پہلو شہری جہاز رانی اور عالمی تجارت ہے۔ بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی سمندری تجارت کے اہم راستوں میں شمار ہوتے ہیں، اس لیے ان علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال میں خرابی کا اثر بین الاقوامی نقل و حمل پر پڑ سکتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جبکہ باب المندب کے قریب بحری آمدورفت متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
سیاسی عمل کی واپسی پر زور
جی سیون نے صرف فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ حوثیوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی عمل میں دوبارہ سنجیدگی سے شامل ہوں۔ مشترکہ بیان میں شہری جہاز رانی کے خلاف حملوں کے خاتمے کو بھی اہم قرار دیا گیا۔
یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا، سعودی عرب اور دیگر علاقائی فریقوں کے درمیان کشیدگی کئی محاذوں پر موجود ہے۔ مختلف ممالک خطے میں مزید پھیلاؤ روکنے اور سفارتی راستوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے پر بھی زور دے رہے ہیں۔
نتیجہ
جی سیون نے ایران سے حوثیوں کی اسلحہ فراہمی اور حمایت روکنے جبکہ حوثیوں سے فوجی کارروائیاں، دھمکیاں اور شہری جہاز رانی پر حملے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ گروپ نے سیاسی عمل کی طرف واپسی پر بھی زور دیا ہے۔ تازہ مطالبہ خطے میں جاری کشیدگی، بحری راستوں کی سلامتی اور عالمی تجارت سے متعلق بین الاقوامی تشویش کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
💬 تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!