Thursday, September 24, 2026
FB
تازہ ترین

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کا ریاض کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعلان

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مشاورتی اجلاس میں سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی مذمت کی اور ریاض کی خود، اپنی سرزمین اور عوام کے دفاع کے حق کی حمایت کی۔ چاروں ممالک نے علاقائی تنازعات کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو اہم راستہ قرار دیتے ہوئے سمندری آمدورفت کے تحفظ پر بھی زور دیا۔

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کا ریاض کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعلان

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے سعودی عرب کے خلاف حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ریاض کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا مشترکہ اعلان کیا ہے۔ چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کا مشاورتی اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور علاقائی و عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے حمایت کا اعادہ کیا گیا جبکہ سعودی سرزمین اور عوام کے دفاع کے حق کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق قرار دیا گیا۔

نیویارک میں چار ملکی مشاورتی اجلاس

پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے 21 ستمبر 2026 کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔

اجلاس میں چاروں ممالک نے علاقائی اور عالمی پیش رفت پر خیالات کا تبادلہ کیا اور مشرق وسطیٰ سمیت وسیع خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے باہمی مشاورت اور رابطہ جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

چاروں ممالک نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور دشمنانہ کارروائیوں کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

مشترکہ بیان میں سعودی عرب کے خلاف تمام حملوں، خصوصاً حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔

چاروں ممالک نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ سعودی عرب کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اپنے دفاع، اپنی سرزمین اور اپنے عوام کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور حملوں کے باعث خلیجی ممالک کی سلامتی اور علاقائی استحکام سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔

سمندری راستوں کے تحفظ پر زور

چاروں وزرائے خارجہ نے خطے میں بحری آمدورفت کی سلامتی اور آزادی برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

مشترکہ بیان میں سمندری راستوں کے محفوظ رہنے کو علاقائی استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔ خلیج اور بحیرہ احمر سے منسلک سمندری راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی اہم ہیں، تاہم مشترکہ بیان میں کسی مخصوص تجارتی راستے کے مستقبل کے حوالے سے کوئی پیش گوئی نہیں کی گئی۔

مذاکرات اور سفارت کاری پر زور

اجلاس میں شریک ممالک نے خطے میں جاری کشیدگی کے پائیدار حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو بنیادی راستہ قرار دیا۔

چاروں ممالک نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔

اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاروں ممالک علاقائی بحرانوں کے حل کے لیے سفارتی رابطوں اور سیاسی عمل کو جاری رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں۔

یمن کی صورتحال پر بھی مؤقف

مشترکہ بیان میں یمن کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ چاروں ممالک نے یمن کی جائز حکومت اور صدارتی قیادت کونسل کی حمایت کا اعادہ کیا۔

بیان میں یمن میں سلامتی، استحکام اور ترقی کے حصول کے لیے سیاسی عمل اور مختلف یمنی فریقوں کے درمیان جامع یمنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

چاروں ممالک کا کہنا تھا کہ یمن کے بحران کا سیاسی حل خطے میں طویل مدتی استحکام کے لیے اہم ہے۔

فلسطین کے معاملے پر مشترکہ مؤقف

چاروں ممالک نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت بھی دہرائی۔

مشترکہ بیان میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔ یہ مؤقف متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بیان کیا گیا۔

بیان میں فلسطینی مسئلے کو مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مرکزی اہمیت کا حامل بھی قرار دیا گیا۔

سوڈان کی خودمختاری کی حمایت

اجلاس میں سوڈان کی صورتحال پر بھی چاروں ممالک نے اپنا مؤقف سامنے رکھا۔

مشترکہ بیان میں سوڈان کی خودمختاری، اتحاد، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ ساتھ ہی ملک کی جائز قومی اداروں کے تحفظ اور ایسی متوازی انتظامی اکائیوں کی مخالفت کی گئی جنہیں سوڈان کی خودمختاری اور اتحاد کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

بیان میں سوڈان میں غیرقانونی ہتھیاروں، کرائے کے جنگجوؤں اور غیرملکی جنگجوؤں کی آمد روکنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

چاروں ممالک میں رابطہ جاری رکھنے پر اتفاق

اجلاس کے اختتام پر پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے علاقائی و عالمی پیش رفت کے حوالے سے قریبی رابطہ اور مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

چاروں ممالک کے مطابق باہمی رابطوں کا مقصد اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا اور خطے میں طویل مدتی استحکام کے لیے کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔

پاکستان کے لیے یہ مشاورتی عمل اس لیے بھی اہم ہے کہ اسلام آباد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی حمایت کر رہا ہے۔ تاہم چاروں ممالک کے مشترکہ بیان میں کسی نئی فوجی کارروائی یا مشترکہ عسکری اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔

نتیجہ

پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصر نے نیویارک میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کی حمایت کرتے ہوئے ریاض کے بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی۔ چاروں ممالک نے حوثی حملوں کی مذمت، بحری آمدورفت کے تحفظ اور خطے میں مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے پائیدار حل کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!