Wednesday, September 23, 2026
FB
تازہ ترین

اقوام متحدہ میں بڑھتے عالمی بحرانوں پر تشویش، گوتریس نے مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی ضوابط پر زور دیا

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دنیا میں جاری جنگوں، بڑھتی ہوئی عالمی تقسیم، موسمیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلتے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ حفاظتی ضوابط اور نگرانی کے نظام کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جان و مال سے متعلق فیصلے مشینوں کے حوالے نہیں کیے جانے چاہئیں۔

اقوام متحدہ میں بڑھتے عالمی بحرانوں پر تشویش، گوتریس نے مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی ضوابط پر زور دیا

اقوام متحدہ میں بڑھتے عالمی بحرانوں پر تشویش، گوتریس نے مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی ضوابط پر زور دیا

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے افتتاحی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو درپیش جنگوں، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، انسانی حقوق کی صورتحال، موسمیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔

22 ستمبر 2026 کو نیویارک میں ہونے والے خطاب میں گوتریس نے کہا کہ عالمی سطح پر اختلافات اور تقسیم بڑھ رہی ہے اور بین الاقوامی قانون و تعاون کو درپیش چیلنجز پہلے سے زیادہ نمایاں ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق جنگ، عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت آنے والے دور کے اہم عالمی چیلنجز میں شامل ہیں۔

جنگوں اور عالمی تقسیم پر سیکریٹری جنرل کی تشویش

گوتریس نے اپنے خطاب میں گزشتہ برسوں کے دوران جاری رہنے والی جنگوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحرانوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح تنازعات میں عام شہریوں کو نقصان پہنچا، انسانی حقوق متاثر ہوئے اور انسانی امداد فراہم کرنے والے کارکن بھی جان سے گئے۔

انہوں نے عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کیے جانے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق سیکریٹری جنرل نے اس صورتحال کو عالمی نظام میں بڑھتی ہوئی دراڑوں سے تعبیر کیا۔

دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات کے باعث اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب عالمی رہنما امن، سلامتی اور بین الاقوامی تعاون کے مستقبل پر بھی گفتگو کر رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی ضوابط کی ضرورت

سیکریٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت کو بھی عالمی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت طب، سائنسی تحقیق اور ترقی سمیت متعدد شعبوں میں بڑے فوائد فراہم کر سکتی ہے، تاہم نگرانی اور جواب دہی کے بغیر اس ٹیکنالوجی کے استعمال سے نئے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

گوتریس نے عالمی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں شفافیت، اعتماد، معلومات کے تبادلے اور مشترکہ حفاظتی اقدامات کے لیے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک کے پاس مصنوعی ذہانت کی سب سے زیادہ صلاحیتیں موجود ہیں، ان کی ذمہ داری بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے مصنوعی ذہانت کے لیے ایک کثیرالجہتی خطرات سے نمٹنے کے فریم ورک کی جانب پیش رفت اور قابل اعتماد و آزاد نگرانی کے نظام پر بھی زور دیا۔

زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے حوالے نہ کیے جائیں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خاص طور پر خودکار ہتھیاروں اور مصنوعی ذہانت سے متعلق فوجی استعمال کے خطرات پر بات کی۔

ان کا مؤقف تھا کہ زندگی اور موت کے فیصلے مشینوں کے سپرد نہیں کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مہلک خودکار ہتھیاروں کے حوالے سے بھی عالمی سطح پر واضح اصول اور مؤثر نگرانی کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف تحقیق یا کاروباری شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ دفاع، مواصلات، بنیادی ڈھانچے اور دیگر حساس شعبوں میں بھی اس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذریعے عالمی تعاون پر زور

گوتریس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات اور مواقع کا تعلق پوری دنیا سے ہے، اس لیے ان سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر تعاون ضروری ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے گلوبل ڈیجیٹل کمپیکٹ، عالمی مصنوعی ذہانت مکالمے اور آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل سمیت مختلف اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے لیے مزید عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق گلوبل ڈیجیٹل کمپیکٹ کے ذریعے مصنوعی ذہانت کی حکمرانی کے لیے عالمی اصول وضع کرنے کی بنیاد رکھی گئی ہے، جبکہ سائنسی ماہرین کا پینل مصنوعی ذہانت کے خطرات اور حفاظت سے متعلق پالیسی سازی کے لیے سائنسی معلومات فراہم کر رہا ہے۔

مصنوعی ذہانت اور عالمی سلامتی کا تعلق

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے عالمی سلامتی کے حوالے سے بھی نئے سوالات پیدا کیے ہیں۔ گوتریس کے مطابق دنیا کو ایسی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ سے قبل مؤثر حفاظتی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جو انسانی فیصلوں اور معاشروں پر وسیع اثر ڈال سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق سیکریٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت کے معاملے کو محض تکنیکی مسئلہ قرار دینے کے بجائے عالمی حکمرانی، انسانی حقوق اور سلامتی سے جوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں، بلکہ جواب دہی اور نگرانی کے بغیر اس کا استعمال خطرات میں اضافہ کر سکتا ہے۔

جنگ، موسمیاتی تبدیلی اور عدم مساوات بھی اہم چیلنجز

گوتریس نے اپنے خطاب میں عالمی مسائل کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے چیلنجز کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق جنگیں ترقی اور معاشی استحکام کو متاثر کرتی ہیں، جبکہ عدم مساوات مختلف معاشروں کی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو بھی عالمی عدم استحکام اور نقل مکانی سمیت متعدد مسائل سے جوڑا۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت ان چیلنجز سے نمٹنے میں مدد بھی دے سکتی ہے اور اگر مناسب نگرانی نہ ہو تو مشکلات میں اضافہ بھی کر سکتی ہے۔

اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت

سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی ادارے اور نظام کئی معاملات میں آج کی طاقت کی حقیقتوں سے پوری طرح مطابقت نہیں رکھتے۔

انہوں نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کا بھی ذکر کیا اور مستقل افریقی نمائندگی نہ ہونے کو موجودہ عالمی نظام کے ایک اہم مسئلے کے طور پر بیان کیا۔

یہ خطاب گوتریس کے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں آخری افتتاحی خطاب کے طور پر بھی اہم ہے، کیونکہ ان کی دوسری مدت دسمبر 2026 کے اختتام پر مکمل ہو رہی ہے۔

پاکستان اور ترقی پذیر ممالک کے لیے اہمیت

مصنوعی ذہانت کے عالمی ضوابط کا معاملہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی اہم ہے۔ عالمی سطح پر بننے والے قواعد اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ مختلف ممالک نئی ٹیکنالوجی تک کیسے رسائی حاصل کرتے ہیں، اسے کس طرح استعمال کرتے ہیں اور اس کے خطرات سے کیسے نمٹتے ہیں۔

ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی پالیسی سازی میں صرف بڑی ٹیکنالوجی طاقتوں کی ترجیحات غالب نہ ہوں بلکہ کم اور متوسط آمدنی والے ممالک کی ضروریات اور صلاحیتوں کو بھی مدنظر رکھا جائے۔

گوتریس نے بھی اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ عالمی مصنوعی ذہانت کے انتظام میں کسی ملک کو پیچھے نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔

عالمی تعاون یا مزید تقسیم؟

اقوام متحدہ کے موجودہ اجلاس کا ایک بڑا موضوع یہ بھی ہے کہ بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی تقسیم کے باوجود عالمی ممالک مشترکہ مسائل پر کس حد تک تعاون کر سکتے ہیں۔

گوتریس کے خطاب میں بار بار بین الاقوامی قانون، مشترکہ اصولوں اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ ان کے مطابق موجودہ بحرانوں کے دور میں طاقت کے استعمال کے بجائے قانون اور تعاون کو مرکزی حیثیت دینا ضروری ہے۔

دنیا کے بڑے تنازعات کے حل، موسمیاتی اقدامات اور مصنوعی ذہانت کی حکمرانی جیسے معاملات میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے درمیان اتفاق رائے حاصل کرنا آسان نہیں، تاہم جنرل اسمبلی عالمی سطح پر ان معاملات پر براہ راست مکالمے کا ایک اہم فورم برقرار رکھتی ہے۔

نتیجہ

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں انتونیو گوتریس نے دنیا کو درپیش جنگوں، عالمی تقسیم، عدم مساوات، موسمیاتی بحران اور مصنوعی ذہانت کے خطرات کو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے چیلنجز قرار دیا۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے لیے مشترکہ عالمی حفاظتی ضوابط، شفافیت اور آزاد نگرانی پر زور دیا اور واضح کیا کہ زندگی اور موت سے متعلق فیصلے مشینوں کے حوالے نہیں کیے جانے چاہئیں۔

آنے والے عرصے میں مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے لیے اقوام متحدہ اور رکن ممالک کے اقدامات اس بات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد کس طرح حاصل کیے جائیں اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات کو کس حد تک محدود کیا جائے۔

Ammar abbas

Ammar abbas

چیف ایگزیکٹو آفیسر – دی پاک گلوبل اردو نیٹ ورک

# Ammar Abbas — صحافت سے CEO تک کامیابی کا سفر **عمار عباس** ایک باصلاحیت، متحرک اور وژن رکھنے والے صحافی ہیں، جنہوں نے صحافت کے میدان سے اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا اور اپنی محنت، صلاحیتوں اور...

💬 تبصرے (0)

اپنا تبصرہ لکھیں

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ پہلے تبصرہ کرنے والے بنیں!